آزاد کشمیر حکومت تبدیلی کا فیصلہ کن موڑ،پیپلز پارٹی کامطلوبہ نمبرز پورے ہونے ،30ارکان کی حمایت کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
آزاد کشمیر حکومت تبدیلی کا فیصلہ کن موڑ،پیپلز پارٹی کامطلوبہ نمبرز پورے ہونے ،30ارکان کی حمایت کا دعویٰ WhatsAppFacebookTwitter 0 26 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پیپلزپارٹی نے آزاد کشمیر میں حکومت سازی کیلئے مسلم لیگ (ن)کی حمایت کے بغیر نمبر پورے کرلیے،آزاد کشمیر کے وزرا فہیم اختر ربانی، محمد عاصم شریف، چوہدری محمد اکبر اور عبدالماجد خان کی پیپلزپارٹی میں شمولیت ہوگئے،آزاد کشمیر کے وزیر تعلیم ظفر اقبال ملک، چوہدری یاسر سلطان، سردارمحمد حسین، چوہدری محمد اخلاق، چوہدری ارشد حسین اور چوہدری رشید بھی پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے، آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی کو 27 اراکین کی حمایت درکار ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے مطلوبہ نمبرز پورے ہونے اور 30ارکان کی حمایت کا دعویٰ کیا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر فارورڈ بلاک کے 5 وزرا نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا۔پی ٹی آئی آزادکشمیر کے 5وزرا نے فریال تالپور اور چوہدری ریاض سے ملاقات کی جس میں پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔پیپلز پارٹی پارلیمانی گروپ کی تعداد 22 تک پہنچ گئی۔دوسری طرف آزاد کشمیر میں سیاسی صورت حال فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گئی ہے، پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے نمبر گیم مکمل ہونے کا دعوی کر دیا اور فریال تالپور کی جانب سے سندھ ہاوس اسلام آباد میں ڈنر بھی دیاگیا، جس میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی، مہاجرین نشستوں اور بیرسٹر سلطان گروپ کے ارکان شریک ہوئے ۔ذرائع نے بتایا کہ بیرسٹر سلطان کے دھڑے نے زرداری ہاوس میں فریال تالپور کے ساتھ ملاقات میں ووٹ کی یقین دہانی کرادی ہے، بیرسٹر گروپ کے 5 اور مہاجرین نشستوں کے 5 ارکان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔
پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ 30 سے زائد ارکان اسمبلی ہمارے ساتھ ہیں، دو ارکان کی حمایت خفیہ رکھی گئی ہے اور دونوں دھڑوں کی شمولیت کے بعد 30 سے زائد ارکان کا ساتھ حاصل ہوگا۔ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی آج پاور شو کے ذریعے اپنی عددی برتری ثابت کرے گی ۔واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر حکومت کی تبدیلی کا فیصلہ کیا تھا، گزشتہ روز ایوان صدر میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی بڑی بیٹھک کے دوران صدرِ مملکت آصف زرداری نے بتایا تھا کہ یہ فیصلہ بلاول بھٹو نے کیا تھا۔آصف علی زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر میں حکومت سازی کا فیصلہ غیر معمولی ہے، پی پی مشکل حالات میں حکومت سنبھالنے جا رہی ہے، یہ پارٹی اور آپ سب کے لیے بھاری ذمہ داری ہے، یقین ہے پی پی ماضی کی طرح ڈلیور کرے گی۔انھوں نے کہا پارلیمانی پارٹی قبل از وقت غیر ضروری بیان بازی اور وزیر اعظم، اسپیکر، وزرا کے لیے ناموں پر چہ مہ گوئیوں سے گریز کرے، آزاد کشمیر کا اگلا وزیر اعظم ایک عام ورکر اور جیالا ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبردراندازی کے واقعات افغان حکومت کے ارادوں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں،آئی ایس پی آر دراندازی کے واقعات افغان حکومت کے ارادوں پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں،آئی ایس پی آر ڈپٹی ڈائریکٹر چیئرمین سینیٹ چودھری ناصر رفیق کے والدِ محترم کے ایصال ثواب کیلئے ختم و قل خوانی کا انعقاد رحیم یار خان، زیادتی کا شکار لڑکی مقدمہ درج ناہونے پر 100فٹ اونچی ٹینکی پر چڑھ گئی، خودکشی کی دھمکی آزادی کشمیر کی صبح قریب، پاکستان ہر فورم پر کشمیریوں کا مقدمہ لڑتا رہے گا،انجینئر امیر مقام پی ٹی آئی آزادکشمیر فارورڈ بلاک کے 5وزرا کا پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان ایران امریکا کیساتھ برابری کی سطح پر مذاکرات کیلئے تیار ہے، ایرانی وزیرِ خارجہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پارٹی میں شمولیت ارکان کی حمایت پیپلز پارٹی میں حکومت کا فیصلہ کا دعوی کے لیے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔