صدر آصف علی زرداری نے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلی فون کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری نے شہباز شریف کو آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کے فیصلے پر اعتماد میں لیا۔ شہباز شریف نے پیپلز پارٹی سے مذاکرات کا ٹاسک مسلم لیگ ن کی آزاد کشمیر افیئرز کمیٹی کو دے دیا۔ جس کے سربراہ احسن اقبال ہیں جبکہ دیگر ارکان میں رانا ثناء اللہ اور امیر مقام شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی سے مذاکرات سے قبل کمیٹی نے ن لیگ آزاد کشمیر سے مشاورت شروع کر دی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے قائد ایوان کے نام کا اعلان منگل تک متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق 27 اکتوبر کو کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف ریاست بھر میں یوم سیاہ منایا جاتا ہے اس لیے فوری طور پر نئے وزیراعظم کے نام کا اعلان نہیں کیا گیا اور یوم سیاہ کے بعد تحریک عدم اعتماد بھی پیش کی جائے گی۔ یہ فیصلہ صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے اجلاس میں کیا گیا۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری یاسین نے کہا کہ ہم آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنانے جا رہے ہیں۔ جس کے نمبر مکمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم چوہدری انوار الحق مستعفی نہ ہوئے تو ہم تحریک عدم اعتماد پیش کریں گے۔ آزاد کشمیر میں نئے وزیر اعظم کیلئے پی پی پی کے چار اہم رہنماؤں کے درمیان سخت مقابلہ ہے جن میں صدر پاکستان پیپلز پارٹی چوہدری یاسین، اسپیکر آزاد کشمیر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر، سینئر نائب صدر پی پی پی سردار یعقوب اور سیکرٹری جنرل راجہ فیصل ممتاز راٹھور شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق موجودہ اسپیکر چوہدری لطیف اکبر نئے وزیر اعظم کیلئے فیورٹ ہیں، تاہم بعض ارکان نے مرکزی قیادت کو تجویز دی ہے کہ چوہدری یاسین چونکہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر ہیں۔ اس لیے انہیں قائد ایوان نامزد کیا جائے۔ نئے وزیراعظم کے نام کا حتمی فیصلہ صدر آصف علی زرداری کریں گے جس کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اس کا اعلان کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وزیراعظم پاکستان ہی آزاد کشمیر کا وزیراعظم منتخب کرے۔آزاد کشمیر کے علاقے میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ایک بار پھر حق  حکمرانی، مالکیت اور حق روزگار کا انتخابی ایجنڈا دہراتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیریوں نے انتخابات میں ووٹ دے کر اکثریت دلوائی تو یہ تینوں مسائل حل کردیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے ہماری حکومت ہے اور یہاں پر جو کام کیے اُن پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بات کرنے والوں کو پنجاب کی سڑکیں ہی ٹھیک لگتی ہیں اور کہتے ہیں کہ صوبے سے نکلتے ہی سڑکیں خراب ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ رائیونڈ کو پنجاب سمجھتے ہیں کیونکہ اندرون صوبے کی حالت بہت بری ہے اور انہیں اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ اب یہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کا فیصلہ اسلام آباد سے ہو اور رائیونڈ کا ایک شہر اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننے کا خواہش مند ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع