ٹکٹ دینا اقربا پروری نہیں، عمرایوب کی اہلیہ سیاسی کارکن کی تعریف پر پورا اترتی ہیں، سلمان اکرم
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا نے این اے 18 ہری پور میں عمر ایوب کی اہلیہ کو پی ٹی آئی ٹکٹ دینے کے معاملے پر کہا ہے کہ کچھ معاملات مقامی سطح کے ہیں، عمر ایوب کا حلقہ پورے پاکستان کا سب سے بڑا ہے، عمر ایوب کی اہلیہ گزشتہ 20 سالوں سے وہاں بطور سیاسی ورکر کام کررہی ہیں۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ عمر ایوب کی اہلیہ کو ٹکٹ دینا اقربا پروری نہیں، کچھ معاملات مقامی سطح کے ہیں، عمر ایوب کا حلقہ پورے پاکستان کا سب سے بڑا ہے، عمر ایوب کی اہلیہ گزشتہ 20 سالوں سے وہاں بطور سیاسی ورکر کام کررہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں کہ عمر ایوب کی اہلیہ کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں یا ان کو مسلط کیا جارہا ہے، علاقے کی سیاست عمر ایوب کی اہلیہ دیکھتی ہیں اور وہ سیاسی کارکن کی تعریف پر پورا اترتی ہیں، عمر ایوب کی اہلیہ کا حق بنتا تھا جسے پارٹی نے تسلیم کیا۔
سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا گیا کہ کیا عمر ایوب نے 9 مئی کیسز میں اپنی نااہلی کی سزا تسلیم کرلی؟
اس پر انہوں نے جواب دیا کہ میری عمر ایوب یا انکے وکیل سے اس حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی، اسکے کیا محرکات ہیں میں نہیں جانتا، مجھے علم نہیں ہے انھوں نے ایسا کیوں کیا اس لیے اس پر بات نہیں کروں گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سلمان اکرم
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔