پاکستانی پاسپورٹ کے فرنٹ کور پیج کی تبدیلی ؛ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کی وضاحت آگئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک :پاکستانی پاسپورٹ کے فرنٹ کور پیج کی تبدیلی کے حوالے سے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کی وضاحت سامنے آگئی ۔
امیگریشن اینڈ پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ کے فرنٹ کور پیج پر کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی، فرنٹ کور پیج کے حوالے سے سوشل میڈیا پر زیر گردش تصاویر جعلی ہیں جبکہ پاسپورٹ سے متعلق زیر گردش مختلف افواہیں بھی بے بنیاد ہیں۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے اس حوالے سے خبروں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے محکمے کی طرف سے اپیل کی ہے کہ شہری ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے جعلی خبروں پر توجہ نہ دیں۔
بھارتی سٹار کرکٹرICUمیں داخل، وجہ کیا بنی؟
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے واضح کیا کہ قومی پاسپورٹ میں چند سیکیورٹی فیچرز کے علاوہ کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی، قومی پاسپورٹ کے حوالے سے پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: فرنٹ کور پیج پاسپورٹ کے کی تبدیلی حوالے سے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔