الیکشن کمیشن کی نگران حکومت کی مدت بڑھانے کیلئے آئین میں ترمیم کی سفارش
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
الیکشن کمیشن کی نگران حکومت کی مدت بڑھانے کیلئے آئین میں ترمیم کی سفارش WhatsAppFacebookTwitter 0 27 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )الیکشن کمیشن نے نگران حکومت کی مدت بڑھانے سے متعلق آئین میں ترمیم کی سفارش کر دی۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 224 ون میں ترمیم کی سفارش کی، الیکشن کمیشن لیگل ریفارم کمیٹی نے سفارشات وزارت پارلیمانی امور کو ارسال کر دیں۔
سفارش میں کہا گیا کہ اسمبلیوں کی تحلیل کی صورت میں انتخابات 90 کے بجائے 120 روز میں کرائے جائیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے اسمبلی کی مدت ختم ہونے پر انتخابات 60 کے بجائے 90 روز میں کرانے کی سفارش کی گئی، اس کے علاوہ انتخابی مہم کا وقت بھی 28 روز سے بڑھا کر 45 روز کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ذرائع الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ شیڈول اور عدالتی کارروائیوں کے باعث بیلٹ پیپرز کی چھپائی میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، عام انتخابات کی تیاری کی مدت بڑھانے کا مقصد بھرپورشفافیت کو یقینی بنانا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارتی ہٹ دھرمی امن کیلئے خطرہ، کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں گے، اسحاق ڈار بھارتی ہٹ دھرمی امن کیلئے خطرہ، کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں گے، اسحاق ڈار دربارِ عالیہ موہڑہ شریف مری میں سالانہ بڑا عرس مبارک 7سے9نومبرکو منعقد ہو گا بھارت کا سکھ یاتریوں کو ویزے جاری نہ کرنا افسوسناک عمل ہے، عظمی بخاری اسلام آباد ہائیکورٹ، عافیہ صدیقی کی رہائی و وطن واپسی کا کیس 29اکتوبر کو لارجر بینچ میں سماعت کیلئے مقرر بلاول بھٹو کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، کشمیر کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال معاشی طور پر کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہے، بلال اظہر کیانیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: میں ترمیم کی سفارش کی مدت بڑھانے الیکشن کمیشن
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔