کنڈی کا وزیراعظم کو خط ، گندم کی بین الصوبائی ترسیل پر پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251028-08-3
پشاور (آن لائن) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک اہم خط لکھا ہے جس میں گندم کی بین الصوبائی ترسیل پر عائد پابندیوں کے خاتمے کی درخواست کی گئی ہے۔ گورنر نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ پابندیاں خیبرپختونخوا کی غذائی سلامتی کو متاثر کر رہی ہیں اور وفاقی تعاون کے آئینی اصولوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔فیصل کریم کنڈی نے اپنے خط میں نشاندہی کی کہ گندم کی آزاد نقل و حمل ملک کے تمام صوبوں کے درمیان باہمی تعاون اور عوامی مفاد کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر آئینی پابندیوں کے باعث خیبرپختونخوا کے عوام کو گندم کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے، جو براہِ راست صوبے کی خوراکی خودکفالت پر اثر ڈال رہی ہیں۔گورنر نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان غیر آئینی پابندیوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے تاکہ صوبوں کے درمیان غذائی توازن بحال ہو اور ملک بھر میں گندم کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی اکائیوں کے درمیان تعاون اور اعتماد ہی پاکستان کے آئینی ڈھانچے کی بنیاد ہے، اور اس کی خلاف ورزی نہ صرف انتظامی مسائل کو جنم دیتی ہے بلکہ عوامی مشکلات میں بھی اضافہ کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گندم کی
پڑھیں:
وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔