پی پی ایل کا تیل و گیس کے 12 نئے کنوئیں کھودنے کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے سالانہ اجلاس ہوا جس میں نئے ذخائر کی کھوج پر مثبت پیشرفت کا اظہار کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اجلاس عام میں پی پی ایل کے چئیرمین بورڈ نے بتایا کہ رواں سال پی پی ایل نے تیل و گیس کے 12 نئے کنوئیں کھودنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
پی پی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر سکندر میمن نے بتایا کہ گیس کے شعبے کا سرکلر ڈیٹ بھی جلد ختم ہونے کا امکان ہے۔ اجلاس میں پی پی ایل انتظامیہ کا کہنا تھا کہ پاور اور گیس سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ پلان میں آئی ایم ایف آن بورڈ ہے، سوئی سدرن اور سوئی نادرن کمپنیوں سے واجبات کی وصولی پر حکومت سےمدد مانگ لی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں تیل و گیس کی فارمیشن کا لال ایکس ون کنواں ٹیسٹنگ کے مراحل میں ہے۔ سال 2026-2027 میں بلوچستان اور آف شور میں تیل وگیس کی تلاش کے منصوبے بنائے ہیں۔ مزید برآں بلوچستان اور آف شور میں تیل و گیس کی تلاش میں مقامی و غیرملکی کمپنیوں سے اشتراک کیا جائے گا۔
اجلاس میں کہا گیا کہ سونے اور تانبے کا منصوبہ ہے جس میں ریکوڈک کے ذریعے 2029-2028 کے دوران پیداوار شروع ہوسکتی ہے۔ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ ختم کرنے کیلئے 1250 ارب روپے کے سینڈیکیٹ لون سے پی پی ایل کو کوئی رقم نہیں ملے گی۔
علاوہ ازیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایس این جی پی ایل کو سرکلر ڈیٹ کے ذریعے رقم ملے گی تو واجبات کی مد میں ادائیگی ہوگی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل تیل و گیس پی پی ایل
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔