پی ٹی آئی نے مئیر کراچی کی حمایت کرنے والے 32 ارکان سے لاتعلقی کا اعلان کیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
تحریک انصاف نے مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب کی حمایت کرنے والے 32 اراکین سے لاتعلقی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق یہ اعلان پی ٹی آئی رہنما راجہ اظہر اور ارسلان خالد کے دستخط شدہ خط کے ذریعے کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ 32 منحرف ارکان کی بنیادی رکنیت ختم کر دی گئی ہے۔ اس میں 10 مخصوص ارکان—اسد امان، صلاح الدین اسرار، امجد علی، عاصم حیدر، اسلم خان نیازی، صنوبر فرحان، زبیر موسی، عبد الغنی، عزیزاللّہ اور فرحان خان—کا بھی ذکر شامل ہے۔
خط میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ ارکان اب پاکستان تحریک انصاف سے تعلق نہیں رکھتے اور سرکاری خط و کتابت یا عوامی حلقوں میں انہیں پی ٹی آئی کا حصہ نہ سمجھا جائے۔ انہیں سٹی کونسل میں آزاد ممبران کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی نے اس مقصد کے لیے مئیر کراچی کو بھی باقاعدہ خط ارسال کیا۔
اس خط کے میڈیا پر آنے کے بعد، سٹی کونسل میں منحرف ارکان کے پارلیمانی لیڈر اسد امان نے وڈیو بیان جاری کیا۔ اسد امان نے کہا کہ خط بھیجنے کی خبر سن کر انہیں افسوس ہوا، اور استعفیٰ دینے کا اختیار صرف عمران خان کے پاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب جیل سے عمران خان کا پیغام آئے گا کہ 32 ارکان استعفیٰ دیں، تب وہ دے دیں گے۔
انہوں نے کراچی کی قیادت کی کارکردگی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ نوٹیفکیشن میں ایک چیئرمین کا نام دو مرتبہ درج کیا گیا۔ اسد امان نے مزید وضاحت کی کہ انہوں نے مرتضیٰ وہاب کو ووٹ نہیں دیا تھا اور عوام کے پیسے جیبوں میں ڈالنے کے بجائے شہر کی ترقی کے لیے کام کیا۔ انہوں نے 9 مئی کے سانحے کے بعد اپنی غیر موجودگی اور مخصوص نشستوں پر خواتین کی انتخابی تقرری پر بھی سوالات اٹھائے۔
واضح رہے کہ اگر پی ٹی آئی کے یہ ارکان مئیر کراچی کی حمایت سے دستبردار ہو جاتے ہیں تو مرتضیٰ وہاب کی سادہ اکثریت متاثر ہو سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مئیر کراچی پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے