سیلاب متاثرین کے لیے اربوں کے فنڈز جاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
سٹی 42: سیلاب متاثرین کےلیےفنڈزجاری کردیے گئے ۔
پی ڈی ایم اے پنجاب نے 15 ارب فنڈز جاری کر دیے ۔ فنڈز بینک آف پنجاب کے ذریعے متاثرین کو فراہم کیے جائیں گے۔
متاثرہ خاندانوں کو امداد اے ٹی ایم کارڈز کے ذریعے ملے گی۔ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے مستحقین کی فہرستیں تیار کرلی گئیں۔ادائیگیوں کے عمل میں شفافیت اور نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ۔
سیلاب زدہ اضلاع کےہزاروں خاندان اےٹی ایم کارڈسےرقم وصول کر سکیں گے
لیسکو کا سموگ کے دوران بجلی بریک ڈاؤن سے بچاؤ کیلئے اقدامات کا آغاز
واضح رہے حکومت نے سیلاب متاثرین کے حوالے سے سروے کروائے تھے اور ہر سیلاب متاثرین کے علاقے میں ٹیمیں بھیج کر معلومات اور نقصانات کے حوالے سے رپورٹ تیار کی تھی ۔ کیمپوں میں بھی سیلاب متاثرین کے حوالے سے معلومات اکھٹی کی ۔ اب پی ڈی ایم اے پنجاب نے اربوں کے فنڈز جاری کردیے ۔جس کے بعد یہی طے کیا ہے کہ سیلاب متاثرین کو فنڈز کے حوالے سے اے ٹی ایم کارڈز دیے جائیں گے جس میں فنڈز موجود ہوں گے ۔
ماضی کی معروف اداکارہ سیمی زیدی کس حال میں اور کہاں؟
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سیلاب متاثرین کے کے حوالے سے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔