ناسا نے دمدار ستارے میں ہائیڈروکسل گیس دریافت کرلی
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
ناسا کے نیل گیہرلز سوئفٹ آبزرویٹری نے ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے، جب ماہرین نے بین النجومی دمدار ستارے کومٹ اٹلس3 آئی میں ہائیڈروکسل (OH) گیس دریافت کی، جو پانی کی کیمیائی شناخت سمجھی جاتی ہے۔ یہ دمدار ستارہ زمین کے مقابلے میں سورج سے تقریباً 3 گنا زیادہ فاصلے پر واقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دمدار ستارہ اٹلس تھری آئی سورج کے قریب پہنچنے والا ہے، انکشاف
آبرن یونیورسٹی کی تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ دریافت بتاتی ہے کہ دمدار ستارے ہمارے نظامِ شمسی سے باہر کس طرح ارتقا پذیر ہوتے ہیں۔
کومٹ اٹلس3 آئی ایک جولائی 2025 کو دریافت ہوا تھا اور یہ اب تک دریافت ہونے والے صرف تین بین النجومی دمدار ستاروں میں سے ایک ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی عمر تقریباً 7 ارب سال ہے اور غالب امکان ہے کہ یہ کسی دوسرے ستارے کے نظام میں تشکیل پایا اور بعد ازاں ہمارے نظامِ شمسی میں داخل ہوا۔
سوئفٹ آبزرویٹری نے ایک مدھم الٹرا وائلٹ چمک کی نشاندہی کی، جو زمین سے دیکھنا ممکن نہیں، جس سے ظاہر ہوا کہ یہ دمدار ستارہ ہر سیکنڈ تقریباً 40 کلوگرام پانی خارج کر رہا ہے، جو سورج سے اس فاصلے پر غیر معمولی رفتار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کہکشاں کے مرکز سے پراسرار روشنی کے اخراج نے ماہرینِ فلکیات کو حیران کردیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج کی روشنی اس دمدار ستارے کے مرکز سے خارج ہونے والے برفیلے ذرات کو گرم کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں گیس اور بخارات خارج ہو رہے ہیں۔
یہ دریافت سائنس دانوں کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ بین النجومی دمدار ستاروں کا مطالعہ اسی طریقے سے کرسکیں، جس طرح وہ نظامِ شمسی کے دمدار ستاروں کا کرتے ہیں تاکہ کہکشاں میں سیاروں کی تشکیل کی کیمیائی ساخت کو بہتر طور پر سمجھا جاسکے۔
تحقیق کی سربراہ زیکسی ژنگ کے مطابق ہر بین النجومی دمدار ستارہ اب تک ایک نیا انکشاف ثابت ہوا ہے۔ کومٹ کومٹ اٹلس3ون ایسے فاصلے پر پانی خارج کررہا ہے جس کی توقع سائنس دانوں نے نہیں کی تھی، اور یہ دریافت سیاروں اور دمدار ستاروں کی تشکیل سے متعلق موجودہ علم کو ایک نئی سمت دے رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اٹلس دمدار ستارہ کومٹ اٹلس تھری آئی ناسا ہائیڈرواکسل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اٹلس دمدار ستارہ بین النجومی دمدار دمدار ستاروں دمدار ستارہ دمدار ستارے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔