Jasarat News:
2026-06-03@02:50:05 GMT

3فیصد شرح نموغربت وبے روزگاری کے سیلاب کونہیں روک سکتی

اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(بزنس رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلزفورم اورآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان اورپالیسی ایڈوائزری بورڈ ایف پی سی سی آئی کے چیئرمین، سابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ اگرچہ زبردست معاشی انحطاط کے بعد ملک میں معاشی استحکام حاصل ہو چکا ہے، مگرمجموعی قومی پیداوار (GDP) کی 3 فیصد شرحِ نموقومی ترقی اورغربت میں حقیقی کمی کے لیے ناکافی ہے۔میاں زاہد حسین نے عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے مالی نظم وضبط کے باعث مہنگائی میں کمی اور پرائمری سرپلس کا حصول ممکن ہوا ہے، جس سے شرحِ نمومالی سال 2024ء میں 2.

6 فیصد سے بڑھ کر 2025ء میں 3 فیصد تک پہنچی ہے تاہم اس استحکام کی قیمت عوام نے ادا کی ہے کیونکہ حالیہ موسمی آفات خصوصاً سیلاب نے زرعی پیداواراورمعیشت دونوں پرمنفی اثرات ڈالے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کے مطابق آئندہ دوسالوں میں حقیقی شرحِ نموبالترتیب 3 فیصد سال 2026 اور 3.4 فیصد 2027 میں رہنے کا امکان ہے، جوملک میں روزگار اور غربت کے بحران کوکم کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ ہرسال 16 لاکھ نوجوان روزگار کے حصول کے متلاشی ہوتے ہیں جبکہ ملازمتیں اور مواقع محدود ہیں، نتیجتاً غربت کی شرح محض 22.2 فیصد سے گھٹ کر 21.5 فیصد تک آنے کا امکان ظاہرکیا گیا ہے، جوانتہائی معمولی بہتری ہے۔میاں زاہد حسین نے عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق برآمدی مسابقت میں تشویشناک کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی برآمدات 1990ء کی دہائی میں جی ڈی پی کے 16 فیصد کے برابرتھیں، جواب گھٹ کرصرف 10 فیصد رہ گئی ہیں۔ قرضوں اور بیرون ملک ترسیلاتِ زرپرانحصارایک خطرناک معاشی گردش کوجنم دے رہا ہے۔ ساتھ ہی مالی سال 2026ء میں متوقع 7.2 فیصد افراطِ زر (Inflation) کم آمدنی والے طبقوں کے لیے تشویشناک ہے۔میاں زاہد حسین نے عالمی بینک کی سفارشات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کوٹیکس کے دائرے کووسیع کرنے، سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتربنانے، زرِمبادلہ کی شرح میں استحکام لانے اور برآمدی لاگت کم کرنے پرفوری توجہ دینی چاہیے۔ مزید برآں، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے بغیرپائیدارترقی ممکن نہیں۔میاں زاہد حسین نے خبردارکیا کہ اگرفوری مطلوبہ اصلاحات نہ کی گئیں تو محض استحکام معیشت کوجمود میں دھکیل دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ روزگارکے مواقع بڑھانے اورغربت میں حقیقی کمی کے لیے برآمدات پر مبنی 6 فیصد کم از کم ترقی ناگزیرہے۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میاں زاہد حسین نے عالمی بینک کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع

اگلےسال نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشن(crypto transactions) پر کیپیٹل گین ٹیکس لگانےکی تجویز سامنے آئی ہے،ذرائع کےمطابق کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان ہے۔

آئی ایم ایف کی مشاورت سےکرپٹوسیکٹرکو ٹیکس نیٹ میں لانےکی تیاری کی جارہی ہے، اس اقدام کا مقصدکرپٹو سیکٹرکو ٹیکس نیٹ میں لانا اورڈیجیٹل معیشت سےحاصل ہونے والے منافع کو ریگولیٹ کرنا ہے،آئی ایم ایف نے تمام ڈیجٹل کاروبار سے منافع پر ٹیکس عائد کا مطالبہ کیا تھا۔

مجوزہ پلان کےتحت انکم ٹیکس آرڈیننس کےسیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سےمتعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کی جائے گی،کرپٹو ٹریڈنگ سےحاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کےدائرے میں آسکتا ہے۔

ذرائع کاکہنا ہےکہ ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نےبھی کرپٹو صارفین پرٹیکس اور ریگولیٹری اقدامات کی تجاویزدی ہیں،جبکہ صارفین کی تعداد،ٹرانزیکشنزاورٹیکس میکانزم کےلیےایک خصوصی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔

ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نےکرپٹوصارفین پر ٹیکس اقدامات تجویزکیے،کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزکشنز اور ٹیکس میکنزم کیلئے کمیٹی بھی قائم کی گئی۔

مزید پڑھیں:27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ

ورچوئل اثاثوں کو لیگل قراردےکرڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانےکافیصلہ کیاگیا، روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کرکےورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن ہوگی،پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج ہوسکے گی۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان