جمیکا کو صدی کے طوفان کا سامنا‘ 7افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کنگسٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) کیریبین جزائی کے ملک جمیکا کو صدی کے سب سے بڑے طوفان ملیسا کے باعث تباہی کا سامنا ہے۔ طوفان جمیکا سے ٹکرانے کے بعد کیوبا کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں طوفان کے خطرات سے بچنے کے لیے ممکنہ اقدامات کیے جارہے ہیں۔ کیوبا کے مختلف علاقوں سے اب تک 7 لاکھ سے زائد لوگ طوفان سے نقصان کے اندیشے کے باعث اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ علاقوں میں منتقل ہوچکے ہیں۔ امریکی نیشنل ہریکن سینٹر کا بتانا ہے کہ کیٹیگری 5 کے اس خطرناک طوفان کے باعث جمیکا میں 185 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلی ہیں جب کہ طوفان اب کیٹیگری 4 میں بدل گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شدید بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی ہے جب کہ طوفان سے اب تک 7 افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔ ان میں 3 کا تعلق جمیکا، 3 کا ہیٹی اور ایک کا ڈومینیشا ریپبلک سے ہے۔ جمیکا کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ ملک میں کوئی بھی انفرا اسٹرکچر ایسا نہیں جو کیٹیگری 5 کے طوفان کو برداشت کر سکے۔ اسے 174 برسوں میں جمیکا سے ٹکرانے والا سب سے طاقتور طوفان قرار دیا جا رہا ہے۔ طوفان نے جنوبی جمیکا کے سینٹ الیزبتھ علاقے میں لینڈ فال کیا، جس کے نتیجے میں درخت، بجلی کے کھمبے اور گھروں کی چھتیں اڑ گئیں اور 50ہزار سے زائد افراد بجلی سے محروم ہو گئے جبکہ مواصلاتی نظام بھی درہم برہم ہو گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ طوفان کے باعث ہیٹی اور ڈومینیکن ریپبلک میں بھی جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ عالمی ریڈ کراس نے بڑے پیمانے پر تباہی اور 15لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔ جمیکا کی حکومت نے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے فوجی دستے تعینات کر دیے ہیں، جب کہ متاثرہ علاقوں سے انخلا کی کارروائیاں جاری ہیں ۔ تمام تعلیمی ادارے، ہوائی اڈے اور بندرگاہیں ہنگامی طور پر بند کر دی گئی ہیں۔ جمیکا میں طوفان کے باعث سینٹ الزبتھ کا علاقہ مکمل طور پر زیرِ آب آگیا،جب کہ اسپتال اور رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ ہیٹی اور ڈومینیکن ریپبلک میں موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک ہوگئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔