ٹر مپ نے پھر وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو عظیم شخصیات قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سیول(مانیٹرنگ ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی اور رواں سال مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان 4 روزہ تنازع کے خاتمے میں اپنے کردار کو دہراتے ہوئے اسے سراہا۔جنوبی کوریا کے شہر گیونگجو میں منعقدہ ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (ایپک) کے دوپہر کے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے بھارت، پاکستان اور دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے تنازع کا تذکرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ’میں بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ کر رہا ہوں، اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں، وزیراعظم نریندر مودی کے لیے میرے دل میں بڑا احترام اور محبت ہے، ہمارے تعلقات بہترین ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’اسی طرح پاکستان کے وزیراعظم ایک شاندار شخصیت ہیں، اور وہاں ایک فیلڈ مارشل ہیں، آپ جانتے ہیں وہ فیلڈ مارشل کیوں ہیں؟ کیونکہ وہ بہترین جنگجو ہیں، وہ واقعی ایک عظیم شخص ہیں‘۔ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے نریندر مودی سے فون پر کہا کہ ہم آپ کے ساتھ تجارتی معاہدہ نہیں کرسکتے‘، مودی نے کہا کہ ’نہیں، ہمیں ضرور کرنا ہوگا‘، میں نے کہا کہ ’نہیں، ہم نہیں کر سکتے، آپ پاکستان سے جنگ شروع کر رہے ہیں‘۔امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے اسی طرح کی بات پاکستان کی قیادت سے بھی کی، ’میں نے کہا کہ، ہم آپ کے ساتھ تجارت نہیں کریں گے کیونکہ آپ بھارت سے لڑ رہے ہیں‘، ’دونوں نے کہا کہ نہیں، نہیں، ہمیں لڑنے دیں‘، ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہاکہ وہ واقعی لڑاکا قومیں ہیں۔ٹرمپ نے ہنستے ہوئے مودی کو سب سے خوبصورت شخص‘ قرار دیا اور ان کی نقل کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ سخت گیر اور زبردست آدمی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دو دن بعد دونوں ملکوں نے فون کیا اور کہا کہ ہم سمجھ گئے، اور انہوں نے لڑائی روک دی، کیا یہ حیرت انگیز نہیں؟ آپ سوچتے ہیں بائیڈن ایسا کر سکتے؟ مجھے نہیں لگتا۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’ہم معاہدے کر رہے تھے، تو میں نے بس ایک جملہ شامل کیا، ’ایک دوسرے پر گولیاں چلانا بند کرو’، 7 طیارے گرائے گئے تھے اور جنگ رک گئی۔امریکی صدر نے کہا کہ ان کی کامیابی سخت تجارتی پالیسی کی وجہ سے ممکن ہوئی، میں نے دونوں ممالک پر 250 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دی، جس کا مطلب تھا کہ وہ کبھی کاروبار نہیں کر سکیں گے اور 48 گھنٹے کے اندر کوئی جنگ نہیں رہی، کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔علاوہ ازیں عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ اور جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے جنوبی کوریا میں ہونے والی ایک سربراہی ملاقات کے دوران اپنے متنازع تجارتی معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دے دی۔ٹرمپ نے ایشیا پیسیفک فورم کے موقع پر لی جے میونگ اور دیگر علاقائی رہنماؤں کے ساتھ عشائیے کے دوران کہا کہ’ ہم نے تجارتی معاہدہ کر لیا ہے۔وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس تجارتی معاہدے کی تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جسے جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔واضح رہے کہ ٹرمپ ایسے وقت میں جنوبی کوریا پہنچے جب شمالی کوریا نے ایک ایٹمی صلاحیت رکھنے والے کروز میزائل کا تجربہ کیا تھا، انہیں گیونگجو میں جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کی جانب سے پْرتعیش استقبال دیا گیا، یہ وہ تاریخی شہر ہے جہاں اس سال کا ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) فورم منعقد ہو رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنوبی کوریا امریکی صدر فیلڈ مارشل نے کہا کہ انہوں نے کے ساتھ نہیں کر
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔