ویمنز ورلڈکپ: جنوبی افریقا کی مریزان کیپ نے نیا ریکارڈ قائم کردیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
آئی سی سی ویمنز ورلڈکپ میں جنوبی افریقا کی مریزان کیپ نے نیا ریکارڈ قائم کردیا۔
ویمنز ورلڈکپ کے پہلے سیمی فائنل میں انگلینڈ کی بیٹنگ لائن کو اکھاڑ پھینکنے والی مریزان کیپ ویمنز ورلڈکپ کی تاریخ کی کامیاب ترین بولر بن گئیں۔
انہوں نے کپتان لورا وولوارٹ کی کیریئر بیسٹ اننگز کے بعد میچ میں 5 وکٹیں حاصل کرکے ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔
جس کے بعد مریزان کیپ ویمنز ورلڈکپ میں 44 وکٹوں سے ساتھ سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والی بولر بن گئی ہیں۔
Marizanne Kapp delivered a spell for the ages to become the all-time leading wicket-taker in Women's @cricketworldcup history ????
Watch the highlights ➡️ https://t.
— ICC (@ICC) October 30, 2025
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ویمنز ورلڈکپ مریزان کیپ
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔