آڈٹ افسران نے اعتراض اٹھایا کہ ڈاؤ یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں پر سالانہ 2  ارب 33 کروڑ روپے خرچ ہو رہے ہیں، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے ڈگریوں کی تصدیق کے بغیر مختلف ادوار میں ملازمین کی بھرتیاں کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے تین ماہ کے اندر سندھ بھر کی سرکاری جامعات کے ملازمین کی تعلیمی ڈگریاں ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تصدیق کرانے کا حکم دے دیا۔ یہ حکم بدھ کو ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں 10 ملازمین کے جعلی تعلیمی اسناد پر بھرتی ہونے کے انکشاف کے بعد دیا گیا۔ چیئرمین نثار احمد کھوڑو کی زیر صدارت منعقدہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کے اجلاس میں ڈاؤ یونیورسٹی کے سال 2022ء سے 2025ء تک آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ آڈٹ افسران نے اعتراض اٹھایا کہ ڈاؤ یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں پر سالانہ 2  ارب 33 کروڑ روپے خرچ ہو رہے ہیں، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ نے ڈگریوں کی تصدیق کے بغیر مختلف ادوار میں ملازمین کی بھرتیاں کی ہیں۔ وائس چانسلر ڈاکٹر نازلی حسین نے پی اے سی کو بتایا کہ ڈاؤ یونیورسٹی میں 35 سو ملازمین میں سے 2500 ملازمین کنٹریکٹ پر ہیں، ان کی ڈگریوں کی تصدیق کا کام جاری ہے، اس دوران 10 ملازمین کی ڈگریاں جعلی نکلی ہیں، جن کی ملازمتیں ختم کر دی گئی ہیں، جبکہ دو جعلی ڈگری والے ملازمین کو فائنل شوکاز دیا گیا ہے۔

اجلاس میں لاڑکانہ میونسپل کارپوریشن کی آڈٹ پیراز کے دوران آڈٹ افسران نے کارپوریشن کے پینشنرز کو لائف و نو میریج سرٹیفکیٹ کے بغیر پینشن کی ادائیگیاں کرنے پر اعتراض کیا۔ میونسپل کمشنر نے پی اے سی کو بتایا کہ لاڑکانہ میونسپل کارپوریشن میں 1150 ملازمین و 150 پینشنرز ہیں، جن میں صرف 34 پینشنرز کے لائف و نو میریج سرٹیفیکیٹ آڈٹ کو پیش کئے گئے ہیں۔ اس موقع پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے رکن طٰحہ احمد نے کہا کے 150 پینشنرز میں سے صرف 34 کے تصدیقی سرٹیفیکٹ پیش ہونے سے ظاہر ہو رہا ہے کہ بقیہ پینشن کی ادائگیاں جعلی طریقے سے ہو رہی ہیں۔

چیئرمین نثار کھوڑو نے کہا کے لوکل کونسلز میں جعلی تنخواہوں اور جعلی پینشن کے اجراء کو روکنے کیلئے کے ایم سی کی طرح سیپ سسٹم کیوں نہیں نافذ کیا جا رہا ہے؟ محکمہ بلدیات کے ایڈیشنل سیکریٹری نے بتایا کہ فروری یا مارچ 2026ء تک حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر، میرپورخاص، شھید بینظیر آباد میں لوکل کونسلز کے ملازمین کی تنخواہیں و پینشن سیپ سسٹم کے تحت آن لائن کی جائینگی۔ پی اے سی نے سندھ بھر کی لوکل کونسلز میں جعلی تنخواہوں و جعلی پینشن کی روک تھام کیلئے پہلے مرحلے میں تمام میونسپل کارپوریشنز کے ملازمین کی تنخواہیں و پینشن سیپ ڈجیٹل سسٹم کے تحت آن لائن کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ڈاؤ یونیورسٹی کے ملازمین کی

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس