سندھ اسمبلی نے لیٹرز اینڈ سکسیشن سرٹیفکیٹ ترمیمی بل منظور کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی نے سندھ لیٹرزاینڈ سکسیشن سرٹیفکیٹ ترمیمی بل متفقہ طور پر منظور کرلیا ہے۔ جمعہ کو سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی صدارت میں منعقد ہوا، وزیرِ قانون ضیاء الحسن لنجار نے سندھ لیٹرز اینڈ سکسیشن سرٹیفکیٹ ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا۔ وزیر قانون کے مطابق ترمیم کے بعد وراثتی سرٹیفکیٹ کے اجرا کا طریقہ کار تبدیل ہوگا۔ پہلے یہ سرٹیفکیٹ سیشن جج جاری کرتا تھا جبکہ اب یہ نادرا کے ذریعے جاری کیا جائے گا، جس سے شہریوں کو تیز تر اور آسان طریقہ کار میسر آئے گا۔ ایوان نے بل کی متفقہ طور پر منظوری دے دی۔ جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ کراچی کے ای سی سی بی ایس ادارہ ہے اسے خود مختار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، 500 ایم فل اور پی ایچ ڈی یہاں سے ہوئے ہیں، کیمیکل اور بائیولوجیکل تحقیات وہاں ہو رہی ہیں، یہ ادارہ اگر علیحدہ کر دیا جائے گا تو عام طلبہ کے لئے تعلیم کے دروازے بند ہو جائیں گے، سندھ کے طلبا کے لیے مشکلات ہوں گی۔پی ٹی آئی / سنی اتحاد کونسل کے رکن واجد حسین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کے ایم سی نے میرے حلقے میں ٹارگٹڈ آپریشن کیا جس میں ایک بزرگ کی ریڑھی پھینکی گئی، انہیں ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ جاں بحق ہوگئے۔ کے ایم سی کی جانب سے 40ہزار روپے مانگے گئے۔ ہم تجاوزات کے خلاف ہیں لیکن آپریشن سب کے لیے ہونا چاہیے۔ ضلعی انتظامیہ بھی لواحقین سے ملنے نہیں گئی۔ایم کیو ایم کے رکن صابر قائم خانی نے کہا کہ حیدر آباد میں پیپلز بسیں بڑھائی جائیں۔ حیدر آباد میں گاڑی کھاتہ سے گدو چوک تک پیپلز بس چلائی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی اور انہیں علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا ۔ جمعے کو جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وزیر تجارت نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات بڑھانے اور عالمی مسابقت بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی اورپاکستانی قالینوں کی عالمی منڈیوں میں رسائی اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے پالیسی اقدامات کا جائزہ بھی لیا۔وفد نے علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات سے وزیر تجارت کو آگاہ کیا۔(جاری ہے)
وفد نے کہا کہ کاروبار دوست اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک برآمدات کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ جام کمال نے کہا کہ حکومت شفاف، قواعد پر مبنی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے برآمدات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے،وزارتِ تجارت صنعت کی تجاویز پر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد قابلِ عمل حل تیار کرے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی ویلیو ایڈیشن، برآمدی صنعت، برانڈنگ اور عالمی ویلیو چینز میں شمولیت پر مرکوز ہے، حکومت نجی شعبے کے تعاون سے تجارت میں حائل حقیقی رکاوٹیں دور کر کے برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کو فروغ دے گی۔\932