Express News:
2026-07-24@07:04:15 GMT

ویسٹ انڈیز کا تاریخی فائٹ بیک، یقینی شکست ڈرا میں تبدیل

اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT

جسٹن گریوز کی ناقابل شکست ڈبل سنچری کی بدولت ویسٹ انڈیز نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں یقینی شکست سے بچ گیا۔

کرائسٹ چرچ میں کھیلے گئے میچ میں ویسٹ انڈیز نے 531 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 163.3 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 457 رنز بنائے۔

یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں چوتھی اننگز کا دوسرا سب سے بڑا اسکور ہے۔

جسٹن گریوز 202 اور کیمار روچ 58 رنز بناکر ناقابل شکست رہے۔ یہ دونوں کا ٹیسٹ کرکٹ میں کیریئر بیسٹ اسکور ہے۔

ہدف کے تعاقب میں صرف 72 رنز پر چار وکٹیں گرنے کے بعد شائے ہوپ اور جسٹن گریوز نے 196 رنز کی شراکت قائم کی۔

شائے ہوپ 140 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ چھٹی وکٹ صرف 9 رنز کے اضافے کے بعد ہی گرگئی۔

بعد ازاں کیمار روچ نے جسٹن گریوز کے ساتھ تاریخ ساز اننگز کھیلی اور 180 رنز کی ناقابل شکست پارٹنرشپ قائم کرکے ٹیم کو یقینی شکست سے بچالیا۔

جسٹن گریوز کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے جیکب ڈفی نے 3 جبکہ میٹ ہینری، زیک فولکس اور مائیکل بریسویل نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

اس سے قبل نیوزی لینڈ نے اپنی دوسری اننگز 466 رنز 8 کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کی تھی۔ رچن رویندرا 176 اور کپتان ٹام لیتھم 145 رنز بناکر نمایاں رہے تھے۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے کیمار روچ نے 5، اوجے شیلڈز نے 2 اور جیڈن سیلز نے ایک وکٹ حاصل کی تھی۔

یاد رہے کہ ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر نیوزی لینڈ کو پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی تھی تو نیوزی لینڈ ٹیم پہلی اننگز میں 231 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی تھی۔

کین ولیمسن 52 اور مائیکل بریسویل 47 رنز بناکر نمایاں رہے تھے۔

ویسٹ انڈیز کی جانب سے کیمار روچم جیڈن سیلز، اوجے شیلڈز اور جسٹن گریوز نے 2،2 جبکہ جوہان لین اور روسٹن چیز نے ایک ایک وکٹ حاصل کی تھی۔

ویسٹ انڈیز ٹیم اپنی پہلی اننگز میں صرف 167 رنز ہی بناسکی تھی۔ شائے ہوپ 56 اور ٹیگنارائن چندرپال 52 رنز بناکر نمایاں رہے تھے۔

نیوزی لیںڈ کی جانب سے جیکب ڈفی نے 5، میٹ ہینری نے 3 اور زیک فولکس نے 2 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نیوزی لینڈ ویسٹ انڈیز جسٹن گریوز کی جانب سے رنز بناکر حاصل کی کی تھی

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل