پی ٹی آئی عوامی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے، ڈکٹیٹرشپ قبول نہیں، فہیم خان
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
اپنے بیان میں رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ فوری طور پر ملک میں حقیقی سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، جس کا واحد راستہ عوامی مینڈیٹ کے احترام، آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ و آزاد میڈیا کے کردار کو تسلیم کرنے سے گزرتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف کراچی کے سینئر نائب صدر و سابق ایم این اے فہیم خان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کی عوام نے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو واضح اکثریت سے کامیاب کرایا اور 180 سے زائد نشستیں دلوا کر عمران خان کے عوامی مینڈیٹ پر اپنی مہر ثبت کی، افسوسناک طور پر اس عوامی مینڈیٹ پر کھلم کھلا ڈاکہ ڈالا گیا، جس کے نتیجے میں آج ملک نہ معاشی استحکام رکھتا ہے نہ سیاسی، ملک کو تجربہ گاہ بنانے والے کرپٹ حکمرانوں نے ہر طرف تباہی کے مناظر پیدا کر دیئے ہیں جن کی کوئی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں۔ فہیم خان نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف عوامی جمہوریت پر پختہ یقین رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کو دیوار سے لگانے کی کوششیں دراصل پاکستان کے عوام کو دیوار سے لگانے کے مترادف ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ فیصلے عوامی امنگوں کے مطابق کرنے کا وقت ہے، کیونکہ کسی فردِ واحد کی مرضی پر نہ ملک چل سکتا ہے اور نہ جمہوریت پروان چڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کی عوام کے دلوں میں بستے ہیں اور ان کے خلاف استعمال کیے جانے والے تمام ہتھکنڈے بارہا ناکام ہوئے اور آئندہ بھی ناکام ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر ملک میں حقیقی سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، جس کا واحد راستہ عوامی مینڈیٹ کے احترام، آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ و آزاد میڈیا کے کردار کو تسلیم کرنے سے گزرتا ہے، جب تک انصاف کی بنیادیں مضبوط نہیں ہوں گی اور عوام کے فیصلوں کو مقدم نہیں رکھا جائے گا، ملک کسی بھی صورت ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عوامی مینڈیٹ پی ٹی آئی نے کہا کہ
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔