data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی فاروق ستار نے کہا ہے کہ 7 دسمبر کو سندھی کلچر ڈے کے نام پر کراچی کی شاہراؤں پر ایک “ریاست کے اندر ریاست” قائم کی گئی۔

فاروق ستار نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اس دن ہنگامہ آرائی، بلوہ اور تشدد کے واقعات پیش آئے، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور اسلحہ بھی لہرا کر دکھایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل ملک دشمنی پر مبنی تھا اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

رہنما ایم کیو ایم پاکستان نے الزام لگایا کہ ریلی کے شرکا نے گورنر سندھ کے خلاف غلیظ زبان استعمال کی اور گورنر ہاؤس تک پہنچ کر انہیں ہدف تنقید بنایا، جبکہ عدالتوں نے بھی اس معاملے میں مناسب کارروائی نہیں کی۔

فاروق ستار نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ شہریوں کے امن و امان کو برقرار رکھا جائے اور سندھ ہائیکورٹ کو اس واقعے کا سوموٹو نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گلشن اقبال میں مخصوص وکلاء کے ٹولے نے شہریوں کے گھروں پر قبضے کی کوشش کی، جس پر اعلیٰ عدالت کو نوٹس لینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پہلے ہی ایسے حالات پر روک لگائی جاتی تو یہ سب نہیں ہوتا، اور اس معاملے پر بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف زرداری کو بھی موقف ظاہر کرنا چاہیے۔ فاروق ستار نے خبردار کیا کہ اگر حکومت بروقت نوٹس نہ لے تو یہ صورتحال کراچی کے امن اور ملک کی بقا کے خلاف سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فاروق ستار نے

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد