مایاعنایت اسماعیل کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کی چیئرپرسن مقرر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, January 2025 GMT
کراچی(کامرس رپورٹر) ایچ بی ایل مائیکرو فنانس بینک (ایچ بی ایل ایم ایف بی) نے مایا عنایت اسماعیل کو ریمنڈ ایچ کوتوال کی جگہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی چیئرپرسن مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مایا عنایت اسماعیل کور سٹریٹجک ٹیم کا حصہ تھیں جس نے ایچ بی ایل ایم ایف بی کی پیشرو تنظیم ایف ایم ایف بی قائم کی تھی، جو پاکستان کا پہلا مائیکرو فنانس بینک ہے، جس نے آغا خان کے پسماندہ کمیونٹیز کے لئے مالیاتی خدمات تک رسائی کو یقینی بنانے کے وڑن کو عملی جامہ پہنایا۔2016 سے ایچ بی ایل مائیکرو فنانس بینک کے بورڈ کی رکن اور ایف آئی ایس سی کمیٹی کی چیئر ہیں جو مالیاتی شمولیت کے لئے ان کے جذبے اور لگن کی عکاسی کرتی ہے۔ مایا عنایت اسماعیل مالیاتی شعبے میں 25 سال سے زائد کا تجربہ رکھتی ہیں، جس میں مالیاتی خدمات کے اداروں، سٹریٹجک شراکت داریوں کے انتظام اور نچلی سطح پر لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے حکمت عملی کی تشکیل پر مضبوط توجہ دی گئی ہے۔سبکدوش ہونے والے چیئرمین ریومنڈ ایچ کوتوال نے کہا کہ ایچ بی ایل مائیکرو فنانس بینک کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دینا اعزاز کی بات ہے، مجھے فخر ہے کہ ہم نے پاکستان بھر میں مالیاتی شمولیت کو آگے بڑھانے میں مل کر جو کچھ حاصل کیا ہے، مجھے یقین ہے کہ مایا عنایت اسماعیل کی تقرری بینک کے لئے جدت طرازی کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گی، اور میں ان کی رہنمائی میں بینک کو پھلتا پھولتا دیکھنے کا منتظر ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مائیکرو فنانس بینک کے لئے
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔