درخت ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنتے ہیں ،بریگیڈیئر عمرالطاف
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
سبی( آئی این پی ) کمانڈنٹ سبی اسکاؤ ٹس ایف سی نارتھ بلوچستان بریگیڈیئر عمر الطاف نے کہا ہے کہ درخت پھول زمین کا حسن اور ہماری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے درخت جہاں ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ کا سبب بنتے ہیں وہاں ہمیں آکسیجن پھل پھول سایہ بھی فراہم کرنے کا زریعہ ثابت ہوئے ہیں سبی سمیت بلو چستان کو گرین بنانے کے لیے عوام اور افسران مل کر درخت لگائیں تاکہ ہمارا بلو چستان چیف آف آرمی کے ویژن کے مطابق گرین پاکستان میں شمار ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نمائش گاہ میں پودہ لگا نے کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر صوبائی وزیر صنعت وحرفت تمندار اقوام ڈومکی سردار کوہیار خان ڈومکی صوبائی وزیر لائیواسٹاک سردارزادہ میر فیصل خان جمالی چیئرمین ضلع کونسل سبی سردارزادہ میر بجار خان ڈومکی کمشنر سبی ڈویژ ن ڈاکٹر سید زاہد شاہ ڈپٹی کمشنر سبی جہانزیب شیخ ڈی آئی جی سبی عبدلحمید کھوسہ ایس ایس پی سبی میر دوستین خان دشتی ڈی جی لائیواسٹاک ڈاکٹر فاروق ترین ، ڈپٹی ڈائریکٹر لائیواسٹاک ڈاکٹر فاروق احمد لونی ، ، سپریٹنڈ نٹ حاجی محمد انور خجک ،بابو ممتاز احمد خجک پاکستان مسلم لیگ ن لیبر ونگ کے صوبائی صدر منیر احمد مسوری بگٹی سبی پریس کلب کے صدر حاجی سعید الدین طارق ، آل پاکستان جرنلسٹس کونسل کے مرکزی جنرل سیکرٹری سید طاہرعلی میر ظہور احمد مگسی کے علاوہ محکمہ جنگلات و لائیواسٹاک کے دیگر آفیسران بھی موجود تھے قبل ازین بریگیڈیئر عمر الطاف نے پودہ لگا کر قومی شجر کاری مہم کا باقاعدہ افتتاح بھی کیا موقع پرکمانڈنٹ سبی اسکاؤٹس ایف سی نار تھ بلوچستان بریگیڈیئر عمرالطاف نے کہا کہ مہم کے دوران سبی بھر میں زیادہ سے زیادہ پودے لگا کر شجر کاری مہم کو کامیاب بنایا جائے تاکہ ہمارا صوبہ سر سبز و شاداب بنے انہوں نے کہاکہ درختوں کی اہمیت و افادیت وہی لوگ جانتے ہیں جو درختوں کے پھلوں اور سایہ سے محروم ہوتے ہیں درخت انسانی جان کے لئے بے حد مفید ہوتے ہیں اس قدر وہ لوگ جانتے ہیں جو درختوں کے سایہ سے محروم ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ سرسبز وشاداب پاکستان مہم کا مقصد ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ ہے ماحول کی بہتری کے لئے شجر کاری اہمیت کی حامل ہے انہوں نے کہا کہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو استعمال میںلاکر عوام کو وہ تمام سہولیات فراہم کریں جو ہماری ذمے داریوں میں شامل ہے ہرشخص ایمانداری سے درخت لگائے اور اسکی حفاظت کرے تو کوئی وجہ نہیں ایک پودا کل تناور درخت بن سکتا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔