مکھن دین کی المناک موت کو کئی ہفتے گزر گئے، ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی، محبوبہ مفتی
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2025 GMT
ذرائع کے مطابق محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ڈائریکٹر جنرل پولیس پر زور دیا ہے کہ وہ مکھن دین کے اہلخانہ کے لیے انصاف کو یقینی بنائیں اور مستقبل میں ایسے المناک واقعات کو روکیں۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ ضلع کٹھوعہ میں مکھن دین کی المناک موت کو کئی ہفتے گزر گئے ہیں اور ابھی تک کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ڈائریکٹر جنرل پولیس پر زور دیا ہے کہ وہ مکھن دین کے اہلخانہ کے لیے انصاف کو یقینی بنائیں اور مستقبل میں ایسے المناک واقعات کو روکیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک عدالتی تحقیقات یا سوگوار خاندان کے لیے کسی قسم کی مدد یا معاوضے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ مقتول کو خودکشی پر مجبور کرانے والا ایس ایچ او بلاور ابھی تک آزاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف یہیں ختم نہیں ہوتا، مکھن دین جیسے بہت سے بے گناہ افراد کو یہی افسر عسکریت پسندی کے جھوٹے الزامات میں گرفتار کرتا ہے اور جب تک کارروائی نہیں کی جاتی، اس طرح کے المناک واقعات پیش آتے رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محبوبہ مفتی نے مکھن دین ابھی تک نے کہا
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔