بیکانیر: بھارت کی 17 سالہ گولڈ میڈلسٹ پاور لفٹر یاشتیکا آچاریہ ٹریننگ کے دوران ایک ہولناک حادثے میں جان کی بازی ہار گئیں، جب ان کے گلے پر 270 کلو وزنی راڈ گر گئی۔

یہ حادثہ منگل کے روز بیکانیر کے ایک جم میں پیش آیا، جب یاشتیکا آچاریہ اپنے ٹرینر کی نگرانی میں وزن اٹھا رہی تھیں۔ اچانک 270 کلوگرام وزنی بار ان کے گلے پر آ گرا، جس کے نتیجے میں ان کی گردن ٹوٹ گئی۔

فوری طور پر انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔ حادثے میں ٹرینر کو بھی معمولی چوٹیں آئیں، تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

پولیس کے مطابق، فی الحال یاشتیکا کے اہلخانہ نے کسی قسم کی قانونی کارروائی نہیں کروائی۔ بدھ کے روز ان کا پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔

یاشتیکا آچاریہ نے اپنے مختصر کیریئر میں کئی نمایاں کامیابیاں حاصل کیں اور قومی سطح پر سونے کا تمغہ جیتا۔ ان کی اچانک موت پر کھیلوں کی دنیا میں افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔

پاور لفٹنگ ایک طاقت پر مبنی کھیل ہے جس میں اسکواٹ، بینچ پریس اور ڈیڈ لفٹ کے مقابلے ہوتے ہیں۔ یہ کھیل اولمپکس کا حصہ نہیں ہے، لیکن عالمی سطح پر مشہور ہے۔

یہ حادثہ کھیلوں میں پیش آنے والے جان لیوا واقعات میں ایک اور افسوسناک اضافہ ہے۔ اس سے قبل، 2014 میں آسٹریلوی کرکٹر فلپ ہیوز بھی میچ کے دوران گیند لگنے سے ہلاک ہو گئے تھے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: کیماڑی سے اغواء 7 سالہ بچی کیساتھ قتل سے پہلے زیادتی کی تصدیق
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش