WE News:
2026-07-24@13:30:25 GMT

مسئلہ مکرمی سکندر بخت کو رضوان کی انگریزی سے نہیں

اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT

مسئلہ مکرمی سکندر بخت کا نہیں، ٹی وی کا ہے۔ یہ سکرین کم بخت بلا ہی ایسی ہے کہ خود پہ نمودار ہونے والی ہر شے کو بے سبب بولے چلے جانے پہ مجبور کر چھوڑتی ہے۔

قصور شاید کچھ میزبان کا بھی ہوگا کہ جس نے خمارِ شب کے درماندہ ذہن کو یوں صبح سویرے ہی چھیڑ دیا اور موصوف نیم خوابیدہ لہجے میں گویا ہوئے کہ، ‘سب سے پہلے تو رضوان کو انگلش میں بات نہیں کرنی چاہیے، وہ اردو میں بات کریں یا پھر پشتو میں۔۔۔۔’

مگر مسئلہ محترمی سکندر بخت کو رضوان کی انگریزی سے نہیں ہے۔ مسئلہ پاکستان کے سب سے بڑے چینل کی چال طے کرتے ان اَذہان میں کہیں چھپا ہے جنہیں سال کے 365دن، چوبیسوں گھنٹے اسکرین چلانے کی ذمہ داری تو ہے، مگر قابلِ دید کانٹینٹ پیدا کرنے کی صلاحیت مفقود ہے۔

سپانسرز تو اپنے سودے بیچنے کے لیے ہر قومی تہوار پہ اسپیشل ٹرانسمشنز کی منڈلی سجاتے ہیں اور کرکٹ سے بڑا قومی تہوار بھلا اور کیا ہوگا؟ مگر یہیں سے کرکٹ کی وہ کم بختی شروع ہوتی ہے جہاں اس کے نام پہ رچائے گئے گھنٹوں طویل شوز میں الا ماشااللہ اس کھیل پہ گفتگو کے سوا سبھی کچھ ہوتا ہے۔

بھانڈ اپنا نقالی کا فن بیچتے ہیں، میزبان اپنی چرب زبانی سے ریٹنگ میٹر کو ٹہوکے دیتے ہیں اور مبصرین کی شکل میں امڈے ریٹائرڈ کرکٹرز اپنے جونئیرز کی ناکامیوں پہ گلے پھاڑ پھاڑ وائرل ہونے کی مہم جوئی کرتے ہیں۔ گھنٹوں پھیلی اس ہڑبونگ میں مجال ہے جو کبھی کھیل پہ کوئی ڈھنگ کی بات دیکھنے کو ملے۔

 اگرمسئلہ محترمی سکندر بخت کو انگریزی لسانیات کی پامالی اور گرامر کی توہین پہ ہی ہوتا تو یقیناً سرفراز احمد کبھی بھی ان کے پسندیدہ ترین کپتان نہ بن پاتے۔ مگر وہاں تو قضیہ ہی کچھ اور تھا کہ سرفراز کو تو وہ خود سالہا سال دہائیاں دے کر لائے تھے۔

گو کہ رضوان کی انگلش سرفراز سے بری تو ہرگز نہیں ہے، مگر بدقسمتی رضوان کی یوں ہے کہ ڈومیسائل کراچی سے نہیں اور اس پہ ستم یہ کہ کپتانی کی کرسی پہ بھی وہ سرفراز کی جگہ ہی بیٹھے ہیں اور قصور ان کا یہ بھی ہے کہ حالیہ تاریخ میں وہ بلا شرکتِ غیرے پاکستان کے بہترین کیپر بلے باز ہیں۔

ایسے میں رضوان کو تو ممنون ہونا چاہیے کہ بات صرف ان کی انگریزی تک ہی رک گئی، وگرنہ موصوف بلڈ پریشر کی گولی گھر بھول آتے تو پھر اعتراض ہیلمٹ اتارے وقت بال جھٹکنے پہ بھی ہوتا، کیپنگ کرتے ہوئے ہلنے پہ بھی ہوتا اور اسٹمپ مائیک میں پشتو بولنے پہ بھی ہوتا۔

یہ سوال اپنی جگہ کہ پاکستانی تاریخ کے بہترین بلے باز اور عمدہ کپتان انضمام الحق کی انگریزی مہارت محترم سکندر بخت کے معیارات کے مطابق تھی یا نہیں، لیکن قدرے کم اہم سوال یہ بھی ہے کہ کسی بھی زبان کی مہارت ایک کپتان کے کھیل میں کیا بہتری لاسکتی ہے؟

اس منطق کے اعتبار سے تو اگر انضمام الحق انگلش لٹریچر میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد قومی ٹیم کا حصہ بنتے تو پاکستان 2007 کا ورلڈ کپ ضرور جیتتا اور اگر سرفراز احمد صرف آئلٹس کا ڈپلومہ ہی کرلیتے تو ورلڈ کپ 2019 میں پہلے ہی راؤنڈ سے باہر نہ ہوتے۔

دِقت مگر اس منطق کے پرچارک کی فقط یہ ہے کہ کھیل کا تجزیہ کرنے کو جو بنیادی آگہی درکار رہتی ہے، وہ ذرا معدوم ہے۔ جہاں کھیل کی حرکیات کا تجزیہ پچ، پلئینگ کنڈیشنز، پلئیرز فارم، گیم اسٹریٹیجی اور انفرادی مہارتوں کی بنیاد پہ کرنے کی صلاحیت ماند ہو، وہاں پھر تبصرے ڈومیسائل دیکھ کر اور انگریزی سن کر ہی ہو سکتے ہیں۔

اس منظرنامے میں، سب سے بڑے چینل کے سب سے بڑے دماغوں کو بھی اپنے سرف فروش اور موبائل فروش اسپانسرز سے استدعا کرنی چاہیے کہ جیسے وہ ‘اسپیشل ٹرانسیمشنوں’ کے ایک ایک منٹ کو اپنے اشتہارات سے رونق بخشتے ہیں، ایسے ہی انہیں کوئی بہتر تجزیہ کار بھی اسپانسر کردیں۔ اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم انہی موجودہ سینئر تجزیہ کاروں کی ذہنی صحت کے لیے تو کوئی اسپانسر ڈھونڈ لائیں۔

پاکستانی ٹیم کا کپتان بھلے اپنے اندر لاکھ عیب رکھتا ہو، وہ پھر بھی پورے پاکستان کا نمائندہ ہے اور اس کی تحقیر بھی پورے پاکستان کی تحقیر کے ہی مترادف ہے۔

گو پاکستان کے نمائندگان کی تحقیر میں سب سے بڑا چینل ماشااللہ ہمیشہ سب سے آگے ہی رہا ہے مگر اس کے پالیسی ایڈیٹرز کو یہ یاد دہانی لازم ہے کہ جو لہجہ وہ ٹیکس پہ چلتے اداروں کے نمائندگان بارے اپناتے ہیں، وہ قومی کرکٹرز کے لیے ہرگز روا نہیں ہوسکتا۔

 نہ صرف یہ کرکٹرز اپنی معیشت خود پیدا کرتے ہیں بلکہ اس کی بدولت ایک پورا کرکٹ بورڈ بھی چلاتے ہیں۔ انہی کے کھیل اور اسٹار پاور کی برکت ہے کہ آپ کی بے ڈھنگی اسپیشل ٹرانسمشنز بھی گھنٹوں شیمپو اور مشروبات بیچ بیچ، آپ کی جیبیں بھر سکتی ہیں۔

پاکستان کا وقار اور اس کے نمائندگان کی تعظیم بھلے آپ کی مجبوری نہیں، مگر چینل چلانا اور چوبیس گھنٹے کی نشریات کا پیٹ بھرنا تو آپ کی مالی مجبوری بھی ہے۔ کم از کم اپنے پیٹ کا ہی لحاظ کرکے اس کھیل پہ رحم کردیں کہ قومی کرکٹرز اس قوم کے نمائندے ہیں، آپ کے ٹیکس خور ملازم نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سمیع چوہدری

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کی انگریزی رضوان کی ہیں اور کے لیے اور اس پہ بھی

پڑھیں:

خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟

پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔

متعلقہ مضامین

  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا