پاکستان مسئلہ فلسطین کیلئے اصولی موقف اور یکجہتی کے عزم کا اعادہ کرتا ہے، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان مسئلہ فلسطین کیلئے اصولی موقف اور یکجہتی کے عزم کا اعادہ کرتا ہے، سیاسی مذاکرات پر مبنی دو ریاستی حل مسئلہ فلسطین کیلئے ناگزیر ہے۔
پاکستان کی زیرِ صدارت اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں مشرق وسطی اور مسئلہ فلسطین پر مذاکرہ ہوا۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کو انتہائی باعث تشویش قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان شام میں پائیدار استحکام کی حمایت کرتا ہے۔
اسحاق ڈار نے سلامتی کونسل پر مسئلہ فلسطین کے حل میں کردار ادا کرنے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں انسانی امداد کی بلاتعطل فراہمی کو فوری ممکن بنایا جائے، وہاں انسانیت کا قتل عام ہو رہا ہے، ہر طرف بھوک و افلاس ہے۔
اس سے پہلے سلامتی کونسل میں پاکستان کی زیرِ صدارت استقبالیہ سے خطاب میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کو ردعمل کے بجائے مسائل کے حل اور قیادت کا مرکز بنانا ہوگا۔
اسحاق ڈار نیو یارک میں تاجروں اور سرمایہ کاروں سے بھی ملے۔ تھائی لینڈ کے وزیر خارجہ اور سعودی عرب کے وزیر برائے معیشت و منصوبہ بندی سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار 25 جولائی کو واشنگٹن کا دورہ کریں گے، جہاں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مسئلہ فلسطین اسحاق ڈار
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔