محبت کے نام پر دھوکا؛ ڈیٹنگ ایپ پر ملنے والی ’دوست‘ نے کروڑوں روپے لوٹ لیے
اشاعت کی تاریخ: 29th, March 2025 GMT
بھارتی ریاست نوئیڈا کے شہری کو سچے پیار کی تلاش مہنگی پڑگئی اور ڈیٹنگ ایپ سے ملی ’’دوست‘‘ کے چکر میں وہ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے گنوا بیٹھا۔
نوئیڈا کے طلاق یافتہ دل جیت سنگھ نے اپنی زندگی میں سچا پیار تلاش کرنے کےلیے ایک ڈیٹنگ ایپ پر پروفائل بنائی تو انہیں ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
گزشتہ سال دل جیت سنگھ کا رابطہ ایک ایسی خاتون سے ہوا جس نے مبینہ طور پر انہیں کچھ کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے پر راضی کیا، جس کا دعویٰ تھا کہ وہ انہیں بھاری منافع کمائے گی۔ لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ ساڑھے چھ کروڑ کا نقصان! یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 20 کروڑ روپے۔
دہلی میں مقیم ایک فرم کے ڈائریکٹر دل جیت سنگھ کا رابطہ دسمبر میں انیتا نامی ایک خاتون سے ہوا، جس نے حیدرآباد سے ہونے کا دعویٰ کیا۔ عام سلام دعا سے لے کر زیادہ گہری گفتگو تک، دونوں کے درمیان بات چیت اور قربت بڑھتی گئی اور وہ ’’خاص دوست‘‘ بن گئے۔
سنگھ کا اعتماد جیتنے کے بعد انیتا نے مبینہ طور پر ٹریڈنگ کے ذریعے بھاری منافع کمانے کی معلومات شیئر کیں اور تین کمپنیوں کے نام بتائے۔
دل جیت نے پہلی ویب سائٹ پر 3.
پھر انہوں نے چھلانگ لگائی اور اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی تقریباً 4.5 کروڑ روپے منتقل کردیے۔ انیتا کے مشورے پر انہوں نے 2 کروڑ روپے کا قرض بھی لیا اور وہ بھی سرمایہ کاری میں لگادیا۔
دل جیت سنگھ نے 30 مختلف لین دین کے ذریعے تقریباً 6.5 کروڑ روپے 25 بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیے۔
جب سنگھ نے پہلے کی طرح رقم نکالنے کی کوشش کی تو ان سے سرمایہ کاری کی گئی رقم کا 30 فیصد منتقل کرنے کو کہا گیا۔ ایسا کرنے سے انکار پر ان سے رابطہ منقطع کردیا گیا۔ ان تین ویب سائٹس میں سے دو جن کے بارے میں انیتا نے مبینہ طور پر بتایا تھا، وہ بند ہوگئیں۔
دل جیت نے شک ہونے پر نوئیڈا سیکٹر-36 کے سائبر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔
تحقیقات پر انیتا کا ڈیٹنگ ایپ پروفائل بھی جعلی نکلا۔ پولیس اب ان اکاؤنٹس کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہی ہے جن میں رقم منتقل کی گئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری دل جیت سنگھ اپنی زندگی کروڑ روپے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔