پی ایس ایل 10: فخر زمان نے محمد رضوان کا ریکارڈ برابر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
راولپنڈی:لاہور قلندرز کے اوپنر فخر زمان نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دسویں ایڈیشن میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف میچ کے دوران ایک اور سنگ میل عبور کرلیا۔
پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں فخر زمان نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی 20ویں پی ایس ایل نصف سنچری مکمل کی۔
اس کارکردگی کے ساتھ وہ پی ایس ایل کی تاریخ میں 20 یا اس سے زائد ففٹیز بنانے والے تیسرے کھلاڑی بن گئے ہیں۔
فخر زمان نے یہ سنگ میل محمد رضوان کے ہمراہ حاصل کیا ہے جنہوں نے بھی پی ایس ایل میں اب تک 20 نصف سنچریاں اسکور کی ہیں۔ دونوں کھلاڑی اب مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔
پی ایس ایل میں سب سے زیادہ ففٹیز بنانے کا اعزاز پشاور زلمی کے کپتان بابر اعظم کے پاس ہے، جنہوں نے 33 نصف سنچریاں اسکور کی ہیں اور وہ لیگ کی تاریخ میں واحد بلے باز ہیں جنہوں نے 30 سے زائد ففٹیز بنائی ہیں۔
پی ایس ایل میں سب سے زیادہ ففٹیز بنانے والے کھلاڑی:
بابر اعظم (پشاور زلمی) – 33
محمد رضوان (ملتان سلطانز) – 20
فخر زمان (لاہور قلندرز) – 20
شعیب ملک (کوئٹہ گلیڈی ایٹرز) – 15
کولن منرو (کراچی کنگز) – 13
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی ایس ایل
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔