UrduPoint:
2025-11-30@20:19:31 GMT

پی ٹی آئی کی خاتون کارکن فلک جاوید کی ضمانت منظور

اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT

پی ٹی آئی کی خاتون کارکن فلک جاوید کی ضمانت منظور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اکتوبر2025ء) پی ٹی آئی کی خاتون کارکن فلک جاوید کی ضمانت منظور، سیشن کورٹ لاہور نے جمعرات کے روز فیصلہ سنایا ۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز سیشن کورٹ لاہور میں ریاستی اداروں کے خلاف ٹویٹ کے مقدمہ کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے فلک جاوید کی ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کےبعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ فلک جاوید کی جانب سے میاں علی اشفاق اور رانا رؤف ایڈووکیٹ نے دلائل دیے۔ ایڈیشنل سیشن جج ساجد احمد چوہدری نے ضمانت بعدازگرفتاری پر سماعت کی۔ فلک جاوید کے خلاف این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کیا ہے۔

.

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے فلک جاوید کی

پڑھیں:

انتخابی نظام  کو غیر اسلامی قرار دینے کا مقدمہ برسوں بعد سپریم کورٹ میں سماعت کیلیے مقرر

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: ملکی عدالتی تاریخ کے کافی پرانے اور اہم نوعیت کے مقدمے نے بالآخر اہمیت پا لی۔ سپریم کورٹ نے انتخابی نظام کو غیر اسلامی قرار دینے سے متعلق کیس کو باضابطہ طور پر سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔

کئی دہائیوں سے زیر التوا یہ معاملہ اب ایک مرتبہ پھر بڑے عدالتی فورم پر زیر بحث  آ رہا ہے، جس کی وجہ سے قانونی ماہرین اور عوامی حلقوں میں غیرمعمولی دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے اس مقدمے کی سماعت کے لیے جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں ایک 5 رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ تشکیل دیا ہے، جو 5 دسمبر کو پہلی باضابطہ کارروائی کرے گا۔

یہ بینچ تقریباً ڈیڑھ سال کے تعطل کے بعد بحال کیا گیا ہے، جس کی دوبارہ تشکیل کے بعد اس طویل مدت سے رکے ہوئے کیس کی پیش رفت ممکن ہو سکی ہے۔

یہ مقدمہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ موجودہ انتخابی ڈھانچے کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دینے کی درخواست تقریباً 36 برس قبل دائر کی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ملک کے انتخابی طریقہ کار، نمائندگی کے حصول کے اصول، اور ووٹنگ کا موجودہ تصور اسلامی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اس وقت کی شریعت کورٹ نے اس درخواست پر فیصلہ دیا تھا، تاہم بعد ازاں حکومت نے اس فیصلے کے خلاف 1989 میں اپیلیں دائر کر دی تھیں، جن پر آج تک کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آ سکا۔

قانونی حلقوں کے مطابق اس کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہونے سے نہ صرف انتخابی ڈھانچے کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کے سوال پر نئی بحث جنم لے گی بلکہ اس کے ممکنہ اثرات آئینی، سیاسی اور جمہوری نظام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عدالتِ عظمیٰ کسی بڑے اصولی فیصلے تک پہنچتی ہے تو یہ پاکستان کے انتخابی نظام، نمائندگی کے طریقہ کار اور سیاسی سرگرمیوں کے پورے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں لا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر
  • شراب و اسلحہ برآمدگی کیس: علی امین گنڈا پور کے خلاف اشتہاری کارروائی شروع
  • انتخابی نظام  کو غیر اسلامی قرار دینے کا مقدمہ برسوں بعد سپریم کورٹ میں سماعت کیلیے مقرر
  • ڈمپر ایسوسی ایشن کے صدر لیاقت محسود کی ضمانت منظور
  • کراچی: ڈمپرکی ٹکر سےنوجوان کی ہلاکت اور ہنگامہ آرائی کا کیس، لیاقت محسودکی ضمانت منظور
  • علیمہ خان کے خلاف مقدمہ، سرکاری وکیل مقرر کرنے کا حکم جاری
  • فواد چوہدری کی پانچ مقدمات میں عبوری ضمانت میں 9 جنوری تک توسیع
  • فواد چودھری کی 5 مقدمات میں عبوری ضمانت میں 9 جنوری تک توسیع
  • پیکا قانون کے تحت قیدی کی سز امعطل، ضمانت منظور
  • میرپور خاص: جوڈیشل مجسٹریٹ 2نے 22ملزمان کے خلاف چالان منظور کرلیے