جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل میں محمد حسن معاویہ کی جانب سے علی چنگیز سندھو ایڈووکیٹ کی جانب سے ریفرنس دائر کیا گیا ہے۔
ریفرنس میں جسٹس اعجاز اسحاق کو عدالتی کارروائی سے روکنے اور نوکری سے برخاست کرنے کی استدعا کی گئی ہے، کہا گیا کہ جج کی طرف سے بلاسفیمی پٹیشنز میں متعصبانہ رویہ اپنایا گیا۔
ریفرنس کے مطابق سپیشل برانچ اور دیگر اداروں کی طرف سے جمع کروائی گئی رپورٹ کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا ہے، قانونی کارروائی سے روکنے کے لئے دائر درخواست پر ملتوی شدہ سماعت کے دن چیمبر سے آرڈر کیا گیا۔
سٹیٹ بینک نے شہریوں کو مالیاتی فراڈ سے خبردار کردیا
سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کئے گئے ریفرنس میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے ساتھ غیر مناسب رویہ اور غیر قانونی الفاظ کا استعمال کیا گیا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سپریم جوڈیشل کونسل میں
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔