Daily Mumtaz:
2026-07-24@07:08:27 GMT

ٹینس کی گیند پر ننھے بال کیوں ہوتے ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

ٹینس کی گیند پر ننھے بال کیوں ہوتے ہیں؟

ٹینس کی گیند پر ننھے بال کیوں ہوتے ہیں؟
اگر آپ کبھی ٹینس دیکھتے ہیں یا اس کی گیند سے کرکٹ کھیلی ہے تو شاید آپ نے غور کیا ہوگا کہ ٹینس کی گیند کی سطح پر ننھے بال ہوتے ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے بال گیند کی پہچان بھی ہیں اور اس کے کھیل پر گہرا اثر بھی رکھتے ہیں۔
جب بھی کوئی ٹینس کھلاڑی نئی گیند لیتا ہے، تو وہ اسے بغور دیکھتا ہے اور خاص طور پر ان ننھے بالوں کو چیک کرتا ہے۔ یہ بال جو “نیپ” (nap) کہلاتے ہیں، درحقیقت پریشرائزڈ ربڑ کی گیند کے اوپر لپٹے ہوتے ہیں۔ یہ ننھے بال اون، نائیلون، کاٹن یا ان سب کے امتزاج سے بنتے ہیں۔
ان بالوں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ گیند کی سطح پر ہوا کے ساتھ رگڑ پیدا کرتے ہیں، جو گیند کی رفتار کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، جب کوئی کھلاڑی گیند کو 150 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سرو کرتا ہے، تو مخالف کھلاڑی کے ریکٹ سے ٹکرا کر یہ رفتار تقریباً 50 میل فی گھنٹہ تک آ جاتی ہے۔ یہ رگڑ گیند کے پیچھے ایسی ہوا کے جھرمٹ بناتی ہے جو بیک اسپن یا ٹاپ اسپن کے دوران گیند کی حرکت کو پیچیدہ اور ناقابلِ پیش گوئی بنا دیتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 1800 کی دہائی میں ٹینس کی گیند کو گرم اور نرم کپڑے سے ڈھانپا جاتا تھا، لیکن بعد میں ننھے بالوں والا یہ نیا انداز اپنایا گیا جس نے کھیل کے معیار کو بہتر بنایا۔
تو اگلی بار جب آپ ٹینس کا میچ دیکھیں، تو سمجھ جائیں کہ یہ ننھے بال گیند کو زیادہ کنٹرول اور مزے دار کھیل فراہم کرنے میں کس قدر اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ٹینس کی گیند ننھے بال ہوتے ہیں گیند کی

پڑھیں:

بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟

امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔

اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔

اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔

امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی

اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔

اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟