دبئی آئی ایل ٹی20 کی حکمرانی کی دوڑ شروع
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
دبئی آئی ایل ٹی20 کی حکمرانی کی دوڑ شروع WhatsAppFacebookTwitter 0 2 December, 2025 سب نیوز
دبئی:متحدہ عرب امارات میں کرکٹ کا سب سے بڑا تہوار شروع ہو گیا ہے، ڈی پی ورلڈ انٹرنیشنل لیگ ٹی 20سیزن 4 کا پہلا میچ دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا گیا۔ افتتاحی مقابلہ گزشتہ سال کے فائنل کی یادگار کے طور پر موجودہ چیمپیئن دبئی کیپیٹلز اور ڈیزرٹ وائپرز کے درمیان ہوا، جس نے شائقین کو شاندار کرکٹ کے منظر دکھائے۔تمام چھ فرنچائزز نے اپنی حتمی اسکواڈز مکمل کر لی ہیں، جو بین الاقوامی اسٹار کھلاڑیوں،
یو اے ای کے ٹیلنٹ اور پہلی بار شامل ہونے والے کویت و سعودی عرب کے کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔ ہر ٹیم میں کم از کم 11 کھلاڑی آئی سی سی فل ممبر ممالک سے، 4 کھلاڑی یو اے ای سے، 1 کھلاڑی کویت، 1 سعودی عرب اور 2 دیگر ایسوسی ایٹ نیشنز کے کھلاڑی شامل ہیں۔افتتاحی تقریب بھی شائقین کے لیے خاص رہی، جس میں معروف گلوکار علی ظفر نے زبردست پرفارمنس دی۔ شائقین کو اسٹینڈ ٹکٹ 20درہم سے اور ہاسپیٹیلٹی پیکجز 325درہم سے دستیاب تھے، جبکہ خصوصی سکسز لاؤنج تجربہ 395درہم میں حاصل کیا جا سکتا تھا۔
اس سیزن کے لیے منتخب اسٹار کھلاڑیوں میں فل سالٹ،سنیل نارین،آندرے رسل، سیم کرن، لاکی فرگوسن، نسیم شاہ، شمرون ہیٹمائر، رومن پاول، مصطفی ظفر الرحمن، معین علی، پاتھم نسنکا، رحمن اللہ گورباز، کیرون پولارڈ، نکولس پوران، عدیل رشید، دنیش کارتک اور سکندر رضا شامل ہیں۔چھ فرنچائزز کی مکمل اسکواڈز میں بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ساتھ یو اے ای اور ایسوسی ایٹ نیشنز کے ٹیلنٹ کو بھی شامل کیا گیا ہے، تاکہ لیگ میں ہر میچ دلچسپ اور مسابقتی ہو۔لیگ کے آغاز کے ساتھ ہی شائقین کرکٹ کے لیے ایک شاندار تہوار شروع ہو گیا ہے، جو متحدہ عرب امارات میں کرکٹ کے عالمی معیار کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرابوظہبی ٹی10 میں ریکارڈز کی برسات،38 چھکوں کی نئی تاریخ ابوظہبی ٹی10 میں ریکارڈز کی برسات،38 چھکوں کی نئی تاریخ معین علی بھی آئی پی ایل چھوڑ کر ایچ بی ایل پی ایس ایل کھیلنے کے لیے تیار آئی ایل ٹی 20 سیزن 4 کا آغاز؛ شائقین عالمی کرکٹ کے ایک اور شاندار سیزن کے منتظر یو اے ای بُلز پہلی بار ابوظہبی ٹی10 لیگ کی چیمپئن بن گئی انڈر 17 ایشین کپ کوالیفائر: پاکستان نے گوام کیخلاف تاریخی فتح حاصل کرلی روومن پاول کی طوفانی بیٹنگ، یو اے ای بلز نے عجمان ٹائٹنز کو ایلیمینیٹر میں باہر کردیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔