واپڈا ترجمان کا کہنا ہے کہ اس وقت تربیلا، منگلا اور چشمہ ریزر وائر میں قابل استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 16 لاکھ 35 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔ دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 39 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 46 ہزار 700 کیوسک ہے۔ 

ترجمان واپڈا کے مطابق دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 42 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 32 ہزار کیوسک ہے۔ 

ترجمان واپڈا کے مطابق چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 59 ہزار کیوسک اور اخراج 61 ہزار کیوسک ہے، دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 18 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 9 ہزار 700 کیوسک ہے۔ 

ترجمان واپڈا کے مطابق دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد 21 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 21 ہزار 800 کیوسک ہے۔

ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلا ریزر وائر میں آج پانی کی سطح 1430.

87 فٹ اور پانی کا ذخیرہ 5 لاکھ 29 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ منگلا ریزر وائر میں آج پانی کی سطح 1130.30 فٹ اور پانی کا ذخیرہ 10 لاکھ 15 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔

ترجمان واپڈا کے مطابق چشمہ ریزر وائر میں آج پانی کی سطح 643.20 فٹ اور پانی کا ذخیرہ 91 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔ 

ترجمان نے بتایا کہ تربیلا، منگلا اور چشمہ ریزر وائر میں قابل استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 16 لاکھ 35 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کے مقام پر پانی کی آمد ترجمان واپڈا کے مطابق کیوسک اور اخراج ریزر وائر میں کیوسک ہے پانی کا

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا