اصلی نام کیا ہے، اپنے فلمی نام سے خوش کیوں نہیں؛ جگن کاظم نے بتادیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
معروف اداکارہ اور میزبان جگن کاظم نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ میرا اصل نام مہربانو ہے البتہ مشہور فلمی نام جگن سے ہوگئی۔
نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ میں، یعنی کہ مہر بانو کاظم جب پہلی بار شوبز انڈسٹری میں آئی، تو مجھے "جگن" کا نام دیا گیا تھا۔
مہربانو کاظم نے بتایا کہ مجھے جگن نام پسند نہیں آیا اور نہ میں اس نام سے شہرت حاصل کرنا چاہتی تھی لیکن پراجیکٹ ایسا تھا۔ میں انکار نہ کرسکی۔
انھوں نے مزید کہا کہ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جگن اس طرح میرے نام کے ساتھ جڑ گیا کہ جو لوگ مہربانو کو جانتے تھے وہ بھی اسے جگن کہنے لگے۔
مہر بانو (جگن) نے مزید کہا کہ بہت سی چیزیں آپ کے ہاتھ میں نہیں ہوتیں۔ میرے نام کی تبدیلی بھی ایسے ہی میرے قابو سے باہر تھی۔
ادکارہ و میزبان جگن کاظم نے شکوہ کیا کہ آج کل لوگ اس قدر بےتکلفی سے بات کرتے ہیں کہ کبھی کبھی چھوٹے بڑے کا فرق سمجھ نہیں آتا۔
انھوں نے کہا کہ میں پرانے خیالات کی مالک ہوں اور سمجھتی ہوں کہ بات کرتے یا مخاطب ہوتے ہوئے احترام کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔
جگن کاظم نے کہا کہ چھوٹی عمر والوں کو مجھے جگن آنٹی یا جگن آپی کہنا چاہیے۔ مجھے اس میں برا نہیں بلکہ اچھا لگے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جگن کاظم نے
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔