Islam Times:
2026-07-24@02:46:49 GMT

ملتان میں پودوں کی انوکھی سبیل 

اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT

مولانا نصرت عباس بخاری نے منتظمین کی کاوش کو سراہا اور اسے ملک کی موجودہ صورتحال کے لیے ضروری قرار دیا، منتظمین کا کہنا تھا کہ اس وقت عالمی موسمیاتی تبدیلی اور خاص طور پر ملتان کی گرمی کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ شجر کاری کی ضرورت ہے۔  چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

امامیہ فائونڈیشن کے زیراہتمام ''سبیل اشجار'' کا اہتمام، علامہ نصرت بخاری کی شرکت

امامیہ فائونڈیشن کے زیراہتمام ''سبیل اشجار'' کا اہتمام، علامہ نصرت بخاری کی شرکت

امامیہ فائونڈیشن کے زیراہتمام ''سبیل اشجار'' کا اہتمام، علامہ نصرت بخاری کی شرکت

امامیہ فائونڈیشن کے زیراہتمام ''سبیل اشجار'' کا اہتمام، علامہ نصرت بخاری کی شرکت

امامیہ فائونڈیشن کے زیراہتمام ''سبیل اشجار'' کا اہتمام، علامہ نصرت بخاری کی شرکت

امامیہ فائونڈیشن کے زیراہتمام ''سبیل اشجار'' کا اہتمام، علامہ نصرت بخاری کی شرکت

امامیہ فائونڈیشن کے زیراہتمام ''سبیل اشجار'' کا اہتمام، علامہ نصرت بخاری کی شرکت

امامیہ فائونڈیشن کے زیراہتمام ''سبیل اشجار'' کا اہتمام، علامہ نصرت بخاری کی شرکت

امامیہ فائونڈیشن کے زیراہتمام ''سبیل اشجار'' کا اہتمام، علامہ نصرت بخاری کی شرکت

امامیہ فائونڈیشن کے زیراہتمام ''سبیل اشجار'' کا اہتمام، علامہ نصرت بخاری کی شرکت

امامیہ فائونڈیشن کے زیراہتمام ''سبیل اشجار'' کا اہتمام، علامہ نصرت بخاری کی شرکت

امامیہ فائونڈیشن کے زیراہتمام ''سبیل اشجار'' کا اہتمام، علامہ نصرت بخاری کی شرکت

امامیہ فائونڈیشن کے زیراہتمام ''سبیل اشجار'' کا اہتمام، علامہ نصرت بخاری کی شرکت

امامیہ فائونڈیشن کے زیراہتمام ''سبیل اشجار'' کا اہتمام، علامہ نصرت بخاری کی شرکت

امامیہ فائونڈیشن کے زیراہتمام ''سبیل اشجار'' کا اہتمام، علامہ نصرت بخاری کی شرکت

امامیہ فائونڈیشن کے زیراہتمام ''سبیل اشجار'' کا اہتمام، علامہ نصرت بخاری کی شرکت

اسلام ٹائمز۔ امامیہ فائونڈیشن پاکستان کے زیراہتمام گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی محرم الحرام کے دوران امام بارگاہ حیدریہ گلگشت کے باہر ''سبیل اشجار'' کا اہتمام کیا گیا، مجلس عزاء کے بعد سینکڑوں پودے عزاداروں میں تقسیم کیے گئے ہیں، معروف خطیب حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا نصرت عباس بخاری نے بھی شرکاء میں پودے تقسیم کیے اور منتظمین کی حوصلہ افزائی کی۔ اس موقع پر انجمن حیدریہ کے اراکین، یافث نوید ہاشمی ایڈووکیٹ، جواد رضا جعفری، احسن مہدی، سمیت دیگر سوشل ایکٹیوسٹ اور رہنماء موجود تھے۔ مولانا نصرت عباس بخاری نے منتظمین کی کاوش کو سراہا اور اسے ملک کی موجودہ صورتحال کے لیے ضروری قرار دیا، منتظمین کا کہنا تھا کہ اس وقت عالمی موسمیاتی تبدیلی اور خاص طور پر ملتان کی گرمی کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ شجر کاری کی ضرورت ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امامیہ فائونڈیشن کے زیراہتمام علامہ نصرت بخاری کی شرکت سبیل اشجار کا اہتمام

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت