اسلام آباد: مقبوضہ کشمیر میں پہلگام واقعہ کے بعد پاک بھارت کشیدگی کے مسئلے پر ایوان بالا میں بحث کی گئی، جہاں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اقدام میں پہل نہیں کرے گا لیکن اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔
قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کی زیرِ صدارت اجلاس سینیٹ کا اجلاس ہوا۔
اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے دل کی گہرائیوں سے تمام سینیٹ کے اراکین کا شکریہ ادا کروں گا کہ ایک اتحاد کا مظاہرہ کیا گیا ہے، جس طرح نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں سول اور ملٹری قیادت نے ایک دفعہ پھر ایک پیج پر ہونے کا دنیا کو واضح پیغام دیا۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح فیڈریشن کی نمائندگی کرتا ہوا یہ ایوان، جس میں تمام صوبوں کی نمائندگی موجود ہے، سینیٹ نے بھی بڑے واضح انداز میں دنیا کو پیغام دیا۔

سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے قرارداد کو حتمی شکل دینے میں تمام پارلیمانی جماعتوں بالخصوص قائد حزب اختلاف، وزیر قانون، شیری رحمٰن اور تمام ساتھیوں کا شکر گزار ہوں، ہم نے جو ڈرافٹ بنایا، اس پر ہم نے افہام و تفہیم کے ذریعے جامع پیغام بنا کر اسے اس ایوان میں پیش کیا، جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹ سے قرارداد متفقہ تیار ہوئی اور منظور ہوئی، یہ عمل قابل تعریف ہے اور تاریخی ہے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس وقت تک ہم نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، چین، برطانیہ، ترکیہ، آذربائیجان، کویت، بحرن اور ہنگری کے وزرائے خارجہ سے بات کی، جبکہ قطر کے وزیر اعظم سے بات کی۔
اسحاق  ڈار نے کہا کہ یہ دوست ممالک ہیں، ان کو میں نے ذاتی طور پر بھارت کی تاریخ اور اقدامات سے آگاہ کیا،اس کے ساتھ ساتھ اپنے خدشات بھی بتائے کہ بھارت کے ممکنہ کیا عزائم ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملہ ہوا، تو مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا گیا، اس دفعہ ہماری سوچ ہے کہ دو ڈھائی سال سے لگے ہوئے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ حالات تبدیل ہوگئے، اس سے معاہدہ ختم نہیں ہو سکتا، یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب دونوں فریقین متفق ہوں، مجھے شک ہے کہ شاید اسے ختم کرنے کے لیے ڈرامہ رچایا گیا۔
نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار نے کہا کہ میں اعتماد سے کہ رہا ہوں پہلگام واقعہ میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین اور ترکیہ نے بڑا واضح مؤقف لیا ہے، چینی وزیر خارجہ سے بڑی تفصیل سے بات ہوئی، انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے دن ردعمل دیا تھا کہ جتنا کیا ہے اس کے ساتھ اتنا ضرور کریں گے، ہماری رپورٹس ہیں کہ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ کشیدگی بڑھانے پر غور کر رہے ہیں، ہم پہل نہیں کریں گے لیکن بھارت نے جارحیت کی، تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمیں اپنے آپ کو عالمی طور پر رابطہ میں رکھنا ہے، بھارت بیانیہ بنانے میں ناکام ہوگیا، بھارتی سیاستدان اب مودی کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

اسحا ق ڈار کا کہنا تھا کہ بھارتی ڈیمارش میں سندھ طاس معاہدے کا ذکر نہیں ہے، مگر ایک خط آیا ہے، اس میں لکھا گیا ہے کہ حالات بدل چکے ہیں، ہم اسے معطل کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ 65 اور 71 کی جنگوں میں معطل نہیں ہوا، یہ ایک نئی چیز ہے، اگرچہ ہمارے پاس ثبوت نہیں ہیں ایسا لگتا ہے یکطرفہ فیصلے نہیں ہوسکتے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے واضح کہا ہے کہ پانی کے ساتھ کچھ ہوا تو اعلان جنگ ہوگا، پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، سندھ طاس معاہدہ پر بین الوزارتی اجلاس بلایا اور مشاورت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 48 گھنٹوں میں سندھ طاس معاہدہ کی معطلی کے اقدام پر ڈوزئیر تیار کررہے ہیں، ڈوزئیر متعلقہ اداروں اور دوست ممالک کو بھجوائیں گے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی مذمتی قرارداد میں تبدیلیاں کرائیں، پہلگام کے ساتھ جموں کشمیر لکھوایا، ٹی آر ایف نے اگر زمہ داری قبول کی ہے تو شواہد دکھائیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے بہت جگہ سے کالز آئیں، لیکن ہم اپنے موقف پر قائم رہے، اپنے آپ کو مطمئن کرنے کے بعد بتا رہا ہوں اس واقعہ سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔
سینیٹ میں پہلگام واقعہ کے بعد پاک بھارت کشیدگی کے مسئلہ پر بحث ہوئی، پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی دشمنی پاکستان سے نہیں بلکہ مسلمانوں اور اسلام سے ہے۔
ان کا کہا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی گجرات کے مسلمانوں کو قاتل ہے، اگر دشمن نے کوئی جارحیت کی تو وہ صدیوں تک یاد رکھیں گے۔
سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ ہماری بھارت کی عوام سے کوئی دشمنی نہیں ہے، بھارتی عوام خود مودی پالیسیوں کے خلاف ہے، مودی اور نیتن یاہو کا گٹھ جوڑ ہے، نیتن یاہو اور مودی کی دشمنی پاکستان سے نہیں مسلمانوں سے ہے، مودی اور نیتن یاہو کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک کے ہاتھ پر غزہ اور دوسرے کے ہاتھ پر گجرات کے مسلمانوں کے ہاتھوں سے رنگے ہیں، مزید کہنا تھا کہ پاکستان، غزہ، عراق یا لیبیا نہیں ہے، ایک اینٹ انہوں نے ماری تو پتھروں کی بارش ہوگی، یہاں کسی نے چوڑیاں نہیں پہنی ہوئیں، یہاں بیٹھی عورتوں نے بھی چوڑیاں نہیں پہنیں، ہمارے ہاں شہیدوں پر رویا نہیں جاتا۔
سینیٹر پلوشہ خان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی سکھ فوجی پاکستان پر حملہ نہیں کرنا چاہتے، سکھوں کےلیے یہ گرونانک کی دھرتی ہے، اگر دشمن نے کوئی جارحیت کی تو صدیوں تک یاد رکھے گا۔

سربراہ مجلس محدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطہ میں اہم مقام پر واقع ہے، ہمارے فیصلہ سازوں کے غلط فیصلوں سے مسائل پیدا ہوئے، ماضی میں امریکی مفاد کے تحت کام کئے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے غیر زمہ دارانہ بیان دیا ہے، ان کے بیان کا پاکستان خمیازہ بھگت رہا ہے، ہمارا دشمن بھارت ہمیں تنہا کرنا چاہتا ہے، بھارت میں پاپولر لیڈرشپ کا تحفظ کیا گیا، ہمارے ہاں پیکا لگایا گیا،گلہ گھونٹا گیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر دفاع کو یہاں آکر حقائق بتانا چاہیے، پاکستان داخلی انتشار کا شکار ہے، ملکی وحدت کی ضرورت ہے، ماضی کی غلطیوں پر معافی مانگیں اتحاد پیدا کریں، عمران خان کو رہا کریں وہی مودی کا مقابلہ کرسکتا ہے۔
علامہ راجا ناصر عباس کا کہنا تھا کہ اللہ پر توکل کریں قوم کو اکٹھا کریں، امریکا کے سامنے کیوں لیٹے ہوئے ہیں؟ امریکا ہمیشہ اپنے مفادات کا سوچتا ہے، پارلیمان کو اعتماد میں لینا ہوگا، سیاسی قیدیوں کو باہر نکالیں تاکہ ملک اکٹھا ہو۔
سربراہ ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ اختلافات کے باوجود پاکستان کے لیے جان دینے کو تیار ہیں، پاکستان کے بیٹوں کو اکٹھا کرنا ہوگا، خدا کے لیے یکجہتی کی بات کریں، بلوچستان میں عورتوں کو رہا کریں۔
سینیٹر مسلم لیگ (ن) ناصر محمود بٹ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مودی ڈرو اس وقت سے جب بھارتی مسلمان تمہارے خلاف کھڑے ہوجائیں، ہم تو پہلے سے ہی بھارت میں گھسے ہوئے ہیں، ابھی نندن کو 3 سے 4 دن پاکستان رکھتے دنیا کو دکھاتے۔
ناصر بٹ کا کہنا تھا کہ بھارت کو اسی کی زبان میں جواب دینگے، تیسرے فریق کے ذریعے بات چیت بزدلی نہیں امن پسندی کی علامت ہے، شاید ہمارے ایٹمی میزائلز کو زنگ نہ لگ گیا ہو ایک دو بھارت پر چلا دیں۔
بے اے پی کے اقلیتی سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ پہلگام واقعہ میں معصوم جانوں کے قتل کی مذمت کرتا ہوں، وزیر اعظم وزارت داخلہ، خارجہ اور سینیٹ نے پہلگام واقعہ کی مذمت کی، واقعہ کے 30 منٹ کے بعد پاکستان پر الزام لگا دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ الزام کی آڑ میں سندھ طاس معاہدہ کو معطل کردیا گیا، کوئی تحقیق یا شواہد نہیں دیے گئے، پاکستان خود دہشتگری کا شکار ہے اور لڑ رہا ہے، پاکستان کیوں ایسا واقعہ کرائے گا، پاکستان نے ہمیشہ دہشتگردی کی مذمت کی لیکن بھارت نے کبھی مذمت نہیں کی۔
سینیٹر دنیش کمار نے کہا کہ جب جنگ ہوئی تو تمام پاکستانی مل کر لڑیں گے، میں ہندو پاکستانی ہوں مجھے وفاداری کے لیے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے، مودی اور آر ایس ایس سوچ کو ہندو مذہب سے نہیں ملا سکتے۔
سینیٹر دنیش کمار کا کہنا تھا کہ پاکستان کی دھرتی ہماری ماں ہے اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے، مودی سرکار نے اگر حرکتیں ختم نہ کیں تو کروڑوں بھارتی مسلمان آپ سے لڑیں گے۔
اسی طرح سینیٹ اجلاس میں مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر کامل علی آغا کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعہ جھوٹ کا پلندہ تھا، بھارتی فوج کے حاضر سروس جنرل نے کہا کہ یہ جھوٹا واقعہ تھا، پاکستان پر الزام تو لگا دیا گیا لیکن وہ لاشیں کہاں ہیں؟ ایک جوڑے کو ماردیا گیا مگر زندہ تھے.


کامل علی آغا نے کہا کہ پاکستانی میڈیا نے اس معاملہ پر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، سندھ طاس معاہدے کو معطل نہیں کیا جاسکتا، دریا نلکے کی ٹوٹی تو نہیں جسے بند کردیں، اگر پاکستانی پانی کم کیا گیا تو اس سے بنائے ڈیمز کو ٹارگٹ کریں گے۔
سینیٹر پی ٹی آئی گوردیپ سنگھ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے، ہم امن چاہتے ہیں، دنیا کا پہلا دہشتگرد ملک بھارت ہے، بھارت نے جو سکھوں کے ساتھ کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔
سینیٹر گوردیپ سنگھ نے کہا کہ 1992 میں بابری مسجد کو شہید کرنے والی یہی سوچ تھی، بھارت خود دہشتگرد ہے کسی اور پر دہشتگردی کا الزام لگاتا ہے، سیاسی اختلافات ختم کرکے ہمیں اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہے، پاکستانی 25 کروڑ عوام اپنے افواج کے ساتھ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مودی دنیا کا امن تباہ کرنا چاہتا ہے، اگر حملہ ہوا تو بھارت کو بھرپور جواب دیں گے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی اختلاف ختم کرنے کے لیے عمران خان کو رہا کریں۔
سینیٹر سرمد علی نے کہ اکہ بھارت میں جب الیکشن ہونے لگتے تو کوئی نہ کوئی دہشت گردی کا حملہ ہوجاتا ہے، یہ ڈارمہ رچانا بی چے پی کا کام ہے، جنگ تو خود ایک مسئلہ ہے، یہ کیا مسئلوں کا حل دے گا۔
اس موقع پر اجلاس میں اظہار خیال کا موقع نہ ملنے پر سینیٹر دوست محمد واک آوٹ کرگئے، قائم مقام چئیرمین سینیٹ نے دوست محمد سے رابطہ کرکے انہیں ایوان میں لانے کی ہدایت کر دی۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے تو مودی ہمارا پانی کیسے بند کر سکتا ہے، وزیر دفاع کے بیان کی سب نے مذمت کی ہے، ہم ایک نیوکلیئر پاور ہیں ہمیں ایسے بیانات سے پہلے دیکھنا چاہئیے
ان کا کہنا تھا کہ عرفان صدیقی سے گزارش ہے کہ بڑے میاں صاحب سے بھی بیان دلوائیں، سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ پہلگام واقعے میں سید عادل علی شاہ نامی بھارتی شہری کو بھی مارا گیا، بھارت کی جانب سے یہ تاثر دینا کہ صرف ہندوں کو ٹارگٹ کیا گیا بالکل جھوٹ پر مبنی ہے، پوری پاکستانی قوم ملکی دفاع کے لیے متحد ہے۔
سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ پی ٹی آئی والے ملکی دفاع کے لیے پہلے کھڑے ہوں گے، بھارت فلمیں بناتا رہتا ہے، لگتا ہے کہ پہلگام فالس آپریشن بھی فلم کا سکرپٹ ہے۔

اس موقع پر سینیٹ اجلاس میں ضمنی ایجنڈے پر سینیٹر عرفان صدیقی اور سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے مختلف قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس ایوان میں پیش کی۔
حیاتیاتی اور زہریلے ہتھیاروں کی ممانعت کے عالمی کنونشن پر عملدرآمد کا بل سینیٹ سے منظور کر لیا گیا، بل وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا، اپوزیشن لیڈر نے بل کی فوری منظوری پر اعتراض کیا۔
قائد حزب اختلاف پی ٹی آئی سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ کم از کم بل تو بتائیں ہے کیا؟ جس پر وزیر قانون نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی خارجہ نے بل کی منظوری دی ہے، قائم مقام چیئرمین نے کہا کہ آئندہ فوری بلز پیش نہیں ہوں گے۔
سینیٹر عون عباس بپی نے کہا کہ 7 لاکھ فوج کے ہوتے ہوئے 20 لوگ آئے اور 20 لوگوں کو مار کر چلے گئے، بھارت کی سوچ مودی اور گجرات سے نکلتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر 7 لاکھ لوگ 20 لوگوں کو نہیں پکڑ سکتے تو یہ ڈرامہ بند کرو، ملکی سالمیت کی بات تھی تو تمام پارٹیوں نے مل کر قرارداد بنائی، یہ پیغام تھا کہ ملک کی خاطر ہم ایک ہیں۔
میاں نواز شریف، عمران خان اور آصف علی زرداری سب کو اکٹھا کریں اور آل پارٹیز کانفرنس بلائیں، اس سے دنیا کو ایک واضح پیغام جائے گا، کوئی طاقت ہمیں ہرا نہیں سکتی۔
سینیٹ میں اقلیتیوں کے حقوق کے کمیشن کے قیام کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا، جو وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا۔
بل کے متن کے مطابق اقلیتوں کے حقوق کا قومی کمیشن قائم کیا جائے گا، کمیشن اقلیتوں کے آئینی حقوق کی نگرانی کرے گا۔
کمیشن اقلیتوں کے فروغ اور حقوق کے تحفظ کے لیے نیشنل ایکشن پلان مرتب کرے گا، کمیشن اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی شکایات کا ڈیٹا بیس بنائے گا۔
کمیشن کسی درخواست یا از خود نوٹس پر اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی پر درج شکایت کی انکوائری کرے گا، کمیشن وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے اقلیتوں کے خصوصی مواقعوں، تہواروں اور ان کے عبادت کی جگہوں کا تحفظ کرے گا۔
کمیشن اقلیتوں کےحقوق کی خلاف ورزی پر کسی عدالت پولیس یا کسی فورم پر جاری کارروائی میں فریق بنے گا۔
اسی طرح کمیشن پولیس اسٹیشن یا جیلوں میں زیر حراست اقلیتوں سے ملاقات کرے گا تاکہ ان کی گرفتاری کی قانونی حیثیت کو دیکھا جا سکے یا اس کے لیے مناسب قانونی اقدامات تجویز کیے جا سکیں۔
کمیشن متعلقہ حکام کو کہے گا کہ سوشل میڈیا پر اقلیتوں کے خلاف کسی بھی امتیازی یا نفرت امیز مواد کو ہٹایا جائے، کمیشن اقلیتوں کے خلاف ایسا مواد شائع کرنے والے یا اسے تیار کرنے والے کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا بھی کہے گا، کمیشن اقلیتوں کے خلاف کسی واقع کی تحقیقات اور انکوائری کرے گا۔
وفاقی حکومت کمیشن کو فنڈ دے گی کہ وہ اقلیتی کمیونٹیز کے متاثرین کو مالی اور قانونی امداد فراہم کر سکے، کمیشن اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی پر انکوائری کرتے ہوئے حکومت یا متعلقہ ادارے سے معلومات اور رپورٹ حاصل کر سکتا ہے۔
کمیشن اپنے طور پر بھی بغیر معلومات یا رپورٹ کے شکایت کی تحقیقات کر سکتا ہے، کمیشن کو لگے کہ اس نے کسی شخص کے طرز عمل کے حوالے سے انکوائری کرنی ہے یا اسے لگے کہ کسی شخص کی ساکھ انکوائری سے منفی طور پر متاثر ہو سکتی ہے تو کمیشن متعلقہ شخص کی بات سنے گا اور اسے اپنے دفاع میں شواہد دینے کی اجازت دے گا۔
اگر کمیشن کی تحقیقات میں کسی سرکاری ملازم کی لاپرواہی سامنے آئے تو وہ حکومت کو اس کے خلاف کارروائی کرنے کہے گا، کمیشن حکومت کو متاثرہ شخص یا اس کے خاندان کو فوری ریلیف فراہم کرنے کی بھی سفارش کرے گا۔
کمیشن اپنے احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر متعلقہ شخص کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لینے کا کہے گا، کمیشن شکایت درج کرنے یا مواد دینے والے شخص کی شناخت کو تحفظ دے گا۔
اگر کمیشن کو لگے کہ شخص، اس کی فیملی، دوست یا قریبی کسی سنجیدہ نقصان کے رسک پر ہیں تو وہ ان کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت دے گا۔
سینیٹ اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔

Post Views: 1

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ڈار کا کہنا تھا کہ حقوق کی خلاف ورزی کمیشن اقلیتوں کے ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ اقلیتوں کے حقوق انہوں نے کہا کہ کہا کہ پاکستان پہلگام واقعہ تھا کہ بھارت نے کہا کہ ا پی ٹی ا ئی کہ پہلگام ایوان میں اسحاق ڈار بھارت کی مودی اور ہوئے ہیں کیا گیا دنیا کو کے ہاتھ کی مذمت نہیں ہو کے خلاف دیا گیا نہیں ہے سکتا ہے جائے گا کے ساتھ اپنے ا کے لیے پیش کی کے بعد کرے گا

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار