لاہور ( طیبہ بخاری سے ) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی دھواں دار  پریس بریفنگ نے  بھارت کے  پسینے چھڑا دیئے۔

بھارت تو پہلگام فالس فلیگ کے 7 دن میں پاکستان کو ایک بھی ثبوت نہ دے سکا لیکن ڈی جی آئی ایس پی آر نے  بھارتی فوج کے حاضر سروس آفیسرز اور جوانوں کی پاکستان میں دہشت گردی کروانے کے ثبوتوں کے ڈھیر لگا دیئے۔

  دنیا بھر میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کی پریس بریفنگ کو بہت توجہ سے دیکھا گیا  اور پاکستان کی جانب سے بھارت کیخلاف جو دہشتگردی کے ڈھیروں ثبوت دیئے گئے ہیں ان پر غور و فکر جاری ہے ۔ جبکہ سوشل میڈیا پر س تبصروں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔بعض تبصرہ نگاروں نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ" اسے کہتے ہیں  بگھو بگھو کر مارنا"

ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا؟

یاد رہے کہ پاکستان نے بھارت کی اسپانسرڈ دہشت گردی کے ناقابل تردید ثبوت(آڈیو ، ویڈیو) پیش کردیئے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان سمیت خطے میں دہشت گردی کو فروغ دے رہاہے،بھارت کے پاکستان پر دہشت گردی سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں۔بھارت شہریوں اور فوج پر حملوں کیلئے دہشت گردوں کو بارودی مواد فراہم کر رہاہے، پہلگام واقعے کو 7 دن ہوگئے ہیں لیکن ابھی تک الزامات کے کوئی ثبوت نہیں پیش کیےگئے، وہاں صرف زبانی جمع خرچ چل رہا ہے، ہم آپ کے سامنے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے مکمل ثبوت پیش کر رہے ہیں۔

آسٹریلوی لڑکی نے لوگوں کی  آن لائن عجیب فرمائشیں پوری کرکے خود کو ملینئر بنا لیا

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت خود ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے،25  اپریل کو بھارتی تربیت یافتہ دہشت گرد عبدالمجیدکو جہلم کے قریب بس اڈے سے پکڑا گیا، گرفتار ملزم سے ڈھائی کلو گرام وزنی بم برآمد ہوا، اس کےگھر سے انڈین ساختہ ڈرون اور 10 لاکھ روپے برآمد ہوئے، اس دہشت گردکا ہینڈلر بھارت کا ایک فوجی ہے، اس ہینڈلر کی گرفتار ہونے والے دہشت گرد سےگفتگو بھی سامنے آئی ہے، دہشت گردکے موبائل فون سے بھارت میں ہوئی بات چیت پکڑی گئی، اس کی کمیونیکیشن بھارت میں صوبیدار  سکھویندر سے ہو رہی تھی۔  گرفتار شخص کی کمیونیکیشن بھارت میں صوبیدار سکھویندر سے ہورہی تھی، اس کمیونیکشن میں چار بھارتی آرمی افسران کی نشاندہی کی گئی ہے، ان بھارتی فوجی افسران میں میجر سندیپ ورما،صوبیدار سکھویندر، حوالدار امیت اور ایک سپاہی شامل ہے، بھارتی ہینڈلر ان دہشت گردوں سے کہہ رہا ہے کہ پاکستان میں شہریوں کی لاشیں چاہیے، پاکستان میں کارروائی کرو تاکہ دنیا کو بتایا جائےکہ یہاں دہشت گردی ہے،بھارتی ہینڈلرز دہشت گردوں کو بم بنانے کے طریقے پر مشتمل ویڈیوز بھیجتے ہیں۔

بھارت پاکستان کی صلاحیتوں سے بخوبی واقف ہے، مہم جوئی کی کوشش کی تو بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا: احسن اقبال

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کمیونیکیشن میں میجر سندیپ نے اعتراف کیا ہےکہ وہ بلوچستان سے لاہور تک دہشت گردی کر رہے ہیں۔ ستمبر 24 کو سکھویندر نے برنالہ بھمبر  میں بارودی مواد کی نشاندہی کی، دہشت گرد عبدالمجید نے برنالہ بھمبر سے بارودی مواد حاصل کیا، 13 اکتوبر کو دہشت گرد نے ضلع باغ میں فوجی گاڑی پر بم حملہ کیا، حملے میں فوج کے3 جوان زخمی ہوئے، اس بم حملے کے لیے دہشت گردکو بھارتی ہینڈلر نے 1لاکھ 80 ہزار  روپے دیئے۔22 نومبر کو سکھویندر نے بم کے حصول کے لیے مجید کو ہیڈ مرالہ کے قریب جگہ کی نشاندہی کی، دہشت گرد نے اس جگہ سے تباہ شدہ ڈرون اور آئی ای ڈی حاصل کی، 30 نومبر کو عبدالمجید نے جلالپور جٹاں میں آئی ای ڈی فوجی گاڑی  پر لگائی جس سے 4 جوان زخمی ہوئے، دہشت گرد نے ٹاسک مکمل ہونے پر 6 لاکھ 56 ہزار  روپے حاصل کیے۔

پہلگام واقعہ سے کوئی لینا دینا نہیں، بھارت نے کوئی جارحیت کی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا: اسحاق ڈار

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ  میجر سکھویندر نے 18 مارچ کو کوٹلی کے قریب آئی ای ڈی کی لوکیشن فراہم کی، 19مارچ کو کوٹلی کے قریب اس مشکوک بیگ کی سکول کے بچوں نے نشاندہی کی، آرمی یونٹ نے کوٹلی کے قریب مشکوک بیگ سے بم برآمد کیا،کوٹلی میں بم کی برآمدگی پر بھارتی میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں 5 بم برآمد ہونےکا جھوٹا پروپیگنڈا کیا۔ 22اپریل 2025 کو  سکھویندر نے ندالہ کے قریب آئی ای ڈی کی ڈیلیوری کی، 23 اپریل کو سکھویندر  نے دہشت گردکو  بس اسٹینڈ  پر بم  حملےکا ٹاسک  دیا۔

پاکستان سے سرکاری عازمین حج کی روانگی کا سلسلہ شروع ہو گیا

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: ڈی جی ا ئی ایس پی ا ر پریس بریفنگ نشاندہی کی ا ئی ای ڈی کے قریب

پڑھیں:

ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری

مجھے خوب یاد ہے کہ راقم نے سب سے پہلے اُن کی تحریر امریکا کے مشہور جریدے ’’نیویارکر‘‘ میں پڑھی تھی۔اِس تحریر کی معرفت میرا اُن سے پہلا تعارف ہُوا۔ یوں میں اُن کی تحریروں کا گرویدہ ہوتا چلا گیا ۔ وہ ہمیشہ مفصل لکھتی ہیں اور اپنا نکتہ نظر کھل کر اور بے دھڑک بیان کرتی ہیں ۔ اُنھی ایام میں گجرات میں ہندو دہشت گردوں اور بدمعاشوں نے دل کھول کر مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی تھی ۔

اِسی خونریزی میں مشہور گجراتی مسلمان سیاستدان و رکن پارلیمنٹ (احسان جعفری) کا خون بھی کر دیا گیا تھا۔اِسی نسل کشی اور مسلمانوں کی بے دریغ خونریزی پر مذکورہ مصنفہ نے ایسا انکشاف خیز آرٹیکل لکھا تھا کہ بھارتی حکومت اور گجرات کی ریاستی سرکار( جس کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی تھے) تھرّا اُٹھے تھے۔ راقم اُن دنوں امریکا میں مقیم تھا اور وہاں سے بھارتی جرائد و اخبارات حاصل کرنا سہل تھا ۔ نیویارک کے معروف علاقے ’’ جیکسن ہائٹس‘‘ میں ایک ہندو کی خاصی بڑی دکان تھی ۔ وہیں سے مَیں بھارتی جریدے خریدا کرتا تھا ۔ مثال کے طور پر: انڈیا ٹوڈے،آؤٹ لک ، فرنٹ لائن وغیرہ ۔اِن تینوں جرائد میں میری پسندیدہ لکھاری کی تحریریں باقاعدہ اور بکثرت شائع ہوتی تھیں ۔

میری اِس محبوب لکھاری کی تحریروں نے مجھے اتنا مسمرائز کررکھا تھا کہ اُن کا عالمی شہرت یافتہ پہلا ناول The God of Small Thingsسامنے آیا تو پہلی ہی فرصت میں نیویارک کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان Barnes and Nobleسے خریدا اور ٹرین میں آتے جاتے اِسے پڑھا ۔ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘ ناول کی کہانی بھارتی صوبے ، کیرالہ، سے شروع ہوتی ہے ۔

اِس کہانی میں کیرالہ کے ایک قصبے میں رہائش پذیر ایک غریب خاندان کی دل شکستہ داستان بیان کی گئی ہے ۔ ناول میں کیرالہ کے ذات پات کے بندھنوں میں جکڑے خاندانوں اور اُن کی المناک کہانیوں کو الفاظ کی شکل میں فلم بنا کر دکھایا گیا ہے۔یہ ناول اشکبار اور افسردہ کر دینے والا ہے ۔ ناولسٹ کو اِس کی بے پناہ مقبولیت کی بِنا پر معروفِ عالم ادبی انعام ’’ بکر پرائز‘‘ سے بھی نوازا گیا ۔ یوں ناول نگار کو عالمی شہرت بھی مل گئی ۔

میری اِس محبوب بھارتی رائٹر کا نام ارُن دھتی رائے ہے ۔ اُن کی کئی عالمی شہرت یافتہ تحریروں کو اُردو میں ترجمہ کرکے کراچی کے سہ ماہی جریدے ’’آج‘‘ کے ذہین و فطین مدیر،اجمل کمال، شائع کر چکے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اجمل کمال صاحب اپنے نام کی مانند باکمال مترجم بھی ہیں ۔ ارُن دھتی رائے کی شخصیت اور تحریریں خاصی سرکش ، مزاحمتی اور ریاست مخالف ہوتی ہیں۔

ہر بھارتی حکومت اِسی لیے انھیں ناپسندیدہ قرار دیتی ہے ۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کئی معروف بھارتی سیاستدان ( از قسم بی جے پی) متعدد بار ارُن دھتی رائے کو ’’غدارِ وطن‘‘ قرار دے چکے ہیں ۔ لیکن یہ درویش صفت خاتون دانشور اور مصنفہ ہر قسم کی سرکاری و غیر سرکاری مخالفتوں کے باوصف اپنے طے شدہ موقف سے ہٹتی ہیں نہ کوئی مخالف انھیں ہٹا سکا ہے ۔ ارُن دھتی رائے کی تحریروں میں جس طرح مظلوم بھارتی مسلمانوں اور زیر استبداد مقبوضہ کشمیریوں کی غیر مبہم حمائت کی جاتی ہے، اِن کی بنیاد پر اُن کے خلاف غداری کے کئی مقدمات بھی دائر ہو چکے ہیں ۔ مگر یہ سرکش مصنفہ کسی کے غچے اور غرّے میں آنے والی نہیں ہیں ۔

بھارتی مسلمانوں اور مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی پاسداری کا اِس محترم و عظیم خاتون نے جس عزیمت سے پرچم اُٹھا رکھا ہے، ہم پاکستانیوں کو شائد اِس لیے بھی ارُن دھتی رائے پسند ہیں ۔ بھارت میں خبثِ باطن کے حامل کئی افراد نے انھیں ’’پاکستان کی ایجنٹ‘‘ بھی قرار دے رکھا ہے ۔ حیرت ہے کہ ماضی قریب میں پاکستان کی بھی ایک ’’ارُن دھتی رائے‘‘ ہُوا کرتی تھیں : وہ باقاعدہ لکھاری تو نہیں تھیں مگر ایک معروف وکیل اور انسانی حقوق کی محافظ ہونے کے ناتے وہ ہر مستبد پاکستانی حکمران کی سخت ناقد رہا کرتی تھیں ۔ اُن کے ہر بیان اور اقدام کی اساس پر اُن کے نظریاتی و سیاسی و سماجی مخالفین انھیں ’’بھارت کی ایجنٹ‘‘ کے لقب سے یاد بھی کرتے تھے ۔

اگست2002کے سلگتے ایام میں ارُن دھتی رائے پاکستان تشریف لائیں تو ہم نے انھیں حیرت انگیز نظروں سے لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں خطاب کرتے دیکھا اور سُنا ۔ اُن کی سادہ شخصیت اور نہایت سادہ لباس اور بھی دَم بخود کر دینے والا تھا ۔ ایک نئی نئی سیاسی جماعت بنانے والے پاکستانی سیاستدان ( جو اَب مرحوم ہو چکے ہیں) اور ایک معروف صحافی (جو اَب مشہور ٹی وی اینکر ہیں) کی دعوتِ خاص پر ارُن دھتی رائے پاکستان آئی تھیں ۔ اور اب اِنہی ارُن دھتی رائے کی نئی کتابMother Mary Comes to Me شائع ہو کر سامنے آئی ہے تو ہم نے اِسے شوق، تجسس اور مسرت سے دیکھا اور پڑھا ہے ۔

اس کتاب میں مصنفہ کی سچائی ، سچ سے محبت، سماجی روایات سے بغاوت اور سرکشی اپنے عروج پر ہے ۔ جس نے بھی اِس کتاب کو پڑھا ہے،سناٹے میں آ گیا ہے کہ آیا کوئی مصنفہ بیٹی ہونے کے ناتے اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنی والدہ بارے اتنے کڑوے سچ بھی بول اور لکھ سکتی ہے؟

یہ تازہ کتاب(Mother Mary Comes to Me) ارُن دھتی رائے نے دراصل اپنی آنجہانی والدہ (Mary) بارے لکھی ہے ۔ یہ درحقیقت والدہ بارے تلخ یادداشتیں اور سوانح ہیں ، مگر بین السطور یہ ارُن دھتی رائے کی سوانح حیات بھی ہے ۔ مصنفہ کے سیاسی و سماجی بھارتی ناقدین(خصوصی طور پر دائیں بازو کے بھارتی سیاستدان)کا کہنا ہے کہ ’’جو رائٹراپنی والدہ بارے یہ سخت الفاظ لکھ سکتی ہے ، اُس کے لیے غداری کا لفظ بھی کم ہے ۔‘‘زیر نظر کتاب میں مصنفہ نے اپنی والدہ کے ساتھ پیچیدہ ، ،مشکل اور جذباتی تعلقات کی داستان بیان کی ہے۔ ارُن دھتی رائے کے بچپن اور والدہ سے تعلقات کی یادداشتوں اور مضبوط حافظے کی داد دینا پڑتی ہے ۔ اُن کی والدہ ایک سخت گیر اور ڈسپلن کی پابند ماہر تعلیم تھیں ۔

اُنھوں نے کیرالہ میں جدید اسکول کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں بڑی شہرت کا حامل بنا ۔ Maryاِس اسکول کی ہیڈ مسٹرس بھی رہیں ۔ وہ ایک آزاد روش کی حامل ، باغی اور انقلابی ذہن کی حامل استاد اور سوشل ایکٹوسٹ بھی تھیں ۔ اُنھوں نے بھارتی سپریم کورٹ میں شامی مسیحی بچیوں کا مقدمہ بہادری سے جیتا اور تاریخ رقم کر گئیں ۔ سماج سے بغاوت اور آزادی سے جینے اور لکھنے کی خواہش کے عناصر ارُن دھتی رائے کو اپنی والدہ سے وراثت میں ملے ۔ حکومت ، سیاست اور سماج مخالف آزادانہ تحریروں کے باعث انھیں ’’اینٹی انڈیا‘‘ بھی کہا گیا ۔ بھارت سرکار کی جانب سے ایک بڑا ڈیم ( نرمدا ویلی ڈیم پراجیکٹ) بنانے کے چکر میں لاکھوں کی مقامی آبادی کو جس وحشت سے اکھیڑا گیا، اُرن دھتی رائے نے بھارت بھر میں اِن غریبوں کا مقدمہ لڑا اور بالآخر اُن کے حقوق دلوا ہی دیئے ۔

ارُن دھتی رائے نے جرأتمندی سے طاقتوروں سے سوال پوچھنے اور اُن کے سامنے ڈَٹ جانے کا سلیقہ اپنی والدہ سے سیکھا ۔ شائد اِسی بِنا پر مصنفہ نے اپنی اِس کتاب میں اپنی والدہ کو اپنی Gangster، Shelterاور My Stormبھی قرار دیا ہے ۔ اگر زیر نظر کتاب کے خلاصے کو دو چار الفاظ میں کوزے میں بند کیا جائے تو کہا جائے گا کہ ارُن دھتی رائے کے قلم سے یہUncompromising Memoirsکی بازگشت ہے ۔ اُنھوں نے اپنی ڈسپلن پسند والدہ بارے لکھا ہے کہ وہ اپنے دونوں بچوں سے سفاکی کی حد تک منظم زندگی ، مگر آزادانہ زندگی گزارنے کی طلبگار تھیں ۔

وہ لکھتی ہیں :’’ اور جب میری تحریروں کے باعث مجھے بھارت اور بھارت سے باہر شہرت ملنے لگی تو میری والدہ مجھ سے حسد کرنے لگی تھیں َ‘‘۔ارُن دھتی رائے بھارت اور دُنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کی جس طرح علمبردار ہیں، اِسی طرح وہ دُنیا کے کسی بھی ملک کو جوہری ہتھیار رکھنے کی حامی نہیں ہیں ۔اُن کے یہ الفاظ اُن کی آزاد منش طبیعت اور باغیانہ روش کے مظہر کہے جاتے ہیں:’’ مجھے کہنے ، لکھنے اور بولنے کی مطلق آزادی چاہیے ۔ اِس کے لیے مجھے کسی خاص ملک کے قومی پرچم کی چھاؤں کی ضرورت نہیں ہے ۔ کسی بھی ملک کا قومی پرچم دراصل کپڑے کو وہ ٹکڑا ہے جو انسانوں کے دماغوں کو محدود بھی کرتا ہے اور اِنہیں سکیڑ کر رکھ دیتا ہے ۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف