اسرائیل میں تیزی سے پھیلتی ہوئی خوفناک جنگلاتی آگ سے پریشان وزیرِاعظم نیتن یاہو نے قومی ایمرجنسی کا اعلان کر دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ آگ یروشلم اور تل ابیب کو جوڑنے والی مرکزی شاہراہ کے گرد جنگل میں لگی تھی۔

تیز ہواؤں نے آگ کو مزید بھڑکایا، جس کے باعث اسرائیل کے 77ویں یومِ آزادی کی تقریبات بھی منسوخ کر دی گئیں۔

آگ تیزی سے پھیلتی گئی اور 30 کلومیٹر کے علاقے میں آباد درجنوں مغرب دیہاتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

جس پر متاثرہ علاقوں سے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا تھا۔

 اسرائیل کے مرکزی ٹی وی چینل "چینل 12" کو بھی یروشلم کے قریب اپنے اسٹوڈیو سے نشریات بند کرنا پڑیں۔

جنگلات میں لگی آگ کے باعث یوم آزادی پر روایتی مشعل روشن کرنے کی تقریب کی بجائے پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو نشر کی گئی۔

صدر اسحاق ہرزوگ نے ایک تقریب سے خطاب میں کہا کہ یہ جنگلاتی آگ موسمیاتی بحران کا حصہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے آج کی شام کو غیر معمولی اور پریشان کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جہاں اسرائیل اپنی آزادی کا جشن منا رہا ہے وہیں فائر فائٹرز تاریخ کی بدترین آگ کا سامنا کر رہے ہیں۔

آگ سے متاثرہ علاقوں میں اسرائیلی فوج بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے اور فوجی انجینئرنگ گاڑیاں جنگلات میں آگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات کررہے ہیں۔

اسرائیلی فضائیہ کے طیارے بھی آگ بجھانے میں مدد دے رہے ہیں۔ 17 فائر فائٹرز زخمی ہوئے۔

فائر سروس کے یروشلم کمانڈر شمولک فریڈمین نے کہا، "یہ ایک بہت بڑی آگ ہے، شاید ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی۔ اسے قابو میں لانے میں بہت وقت لگے گا۔

اسرائیلی شہریوں نے ایمرجنسی سروسز کی تیاریوں پر سوال اٹھائے۔ موڈعین کے قریب موجود یووال اہرونی نے کہا، "ہمیں پہلے سے علم تھا کہ موسم خطرناک ہوگا، پھر بھی بڑے طیارے موجود نہیں تھے۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہےکہ یورپی ممالک کروشیا، فرانس، اٹلی، رومانیہ اور اسپین سے بھی فائر فائٹنگ طیاروں کی آمد متوقع ہے۔

دریں اثنا، دائیں بازو کے وزیرِ سلامتی ایتامار بن گویر نے اشارہ دیا کہ یہ آگ ممکنہ طور پر جان بوجھ کر لگائی گئی ہو، تاہم انھوں نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم