اسرائیل نے ایک نیا نقشہ بنا لیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
پچھلے دنوں ایک اہم لیکن غیر پابند اقدام میں اسرائیل کی پارلیمنٹ، کنیسٹ میں اسرائیلی مقننہ نے بھاری اکثریت سے ایک اعلامیہ کی منظوری دی ہے جس میں مقبوضہ مغربی کنارے اور وادی اردن میں یہودی بستیوں پر اسرائیلی خودمختاری کی فوری توسیع پر زور دیا گیا ہے۔13 کے مقابلے میں 71 ووٹوں سے منظور ہونے والی اس تحریک کو دائیں بازو اور مرکزی دائیں بازو کی اسرائیلی پارٹیوں کی حمایت حاصل تھی جن میں لیکود، شاس، مذہبی صیہونیت، اوتزما یہودیت اور یسرائیل بیتینو شامل ہیں۔
متن میں اعلان کیا گیا کہ 7 اکتوبر 2023 ء کو حماس کا حملہ جسے اسرائیلی سیاسی گفتگو میں "سمچات تورہ قتل عام" کہا جاتا ہے، یہ ثابت کرتا ہے کہ فلسطینی ریاست کا قیام اسرائیل کے وجود کے لیے ایک جان لیوا خطرہ ہے۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’’کنیسٹ اعلان کرتی ہے کہ اسرائیل کی سرزمین کے تمام حصوں کو اپنے وجود میں شامل کرنا اس کا فطری، تاریخی اور قانونی حق ہے۔ "کنیسٹ حکومت اسرائیل سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ یہودیہ، سامریہ اور وادی اردن میں یہودی آباد کاری کے تمام علاقوں پر خودمختاری کا اطلاق کرنے کے لیے بلا تاخیر عمل کرے۔"
یہ بالکل بھی علامتی نہیں
اس قرارداد پر علامتی کا لیبل لگایا گیا ہے، مگر فلسطینی ماہرین اس ووٹ کو مغربی کنارے میں اسرائیل کی مستقل موجودگی اور حکمرانی کے لیے نوکر شاہی کی بنیاد رکھنے کے طور پر دیکھتے ہیں جو بین الاقوامی اتفاق رائے کے ذریعے مستقبل کی فلسطینی ریاست کا مرکز ہے۔مغربی کنارے کی برزیٹ یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر سعد نمر کہتے ہیں، اس اقدام کے مضمرات دور رس ہیں۔
"یہ بالکل بھی علامتی نہیں ۔" نمر کا کہنا ہے "اس کا مطلب ہے کہ ان بستیوں کو اب اسرائیلی شہروں کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ وہ فوجی قانون کے تحت اب 'قبضہ' نہیں رہے ہیں۔ یہ الحاق کا قانونی اور بیوروکریٹک بنیادی ڈھانچہ ہے۔"وہ مذید کہتے ہیں "اسرائیلی وزارتیں ، فوج نہیں ، اب ان علاقوں میں صحت، بہبود، منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کی نگرانی کریں گی۔ یہ تھیوری نہیں ،یہ بلڈوزر، بجٹ اور توسیع کے بارے میں ہے۔"
فلسطین کی فتح انقلابی کونسل کے ایک رکن، دیمتری دلیانی نے ان جذبات کی بازگشت کی۔ان کا کہنا ہے ’’ووٹ کو علامتی طور پر بیان کرنا خطرناک حد تک نادانی ہے۔" دلیانی نے خبردار کیا۔ "اسرائیلی سیاست میں علامت پرستی اکثر حقیقت میں الحاق کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ گو کنیسٹ کی تحریک میں پابند قانون سازی کی اتھارٹی کا فقدان ہے، یہ نئے گھریلو سیاسی جواز کے ساتھ ریاست اسرائیل کے آباد کار نوآبادیاتی منصوبے کو وسعت دینے کے لیے حکومت اور اپوزیشن، دونوں میں اتفاق رائے پیدا کر سکتی ہے۔"
دلیانی نے مزید کہا کہ کنیسٹ کے اراکان پہلے ہی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اصطلاح "ویسٹ بینک" کو بائبل کے "یہودا اور سامریہ" سے بدلنے کے لیے قانون سازی پر زور دے رہے ہیں ۔یوں وہ اسرائیلی قانون میں قوم پرست بیانیہ کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔
سیاسی لین دین
بہت سے تجزیہ کار اس ووٹنگ کو نہ صرف نظریاتی بلکہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے کمزور حکومتی اتحاد کو بچانے کے لیے ایک حکمت عملی کے طور پر سیاسی چال کے طور پر دیکھتے ہیں۔
"یہ بالکل واضح ہے کہ یہ ایک سیاسی تبادلہ تھا،" نمر نے کہا۔ "قومی مذہبی پارٹی اور مذہبی صیہونیت بیزلیل کے رہنما، سموٹریچ اوراوزمہ یہودیت ("یہودی طاقت") پارٹی کے رہنما،بین گویر نے دھمکی دی تھی کہ اگر دوحہ میں مذاکرات غزہ میں جنگ بندی کا باعث بنتے ہیں تو وہ حکومت چھوڑ دیں گے۔ یہ ووٹ نیتن یاہو کا انہیںاپنے ساتھ رکھنے کا طریقہ ہے۔"
انتہائی دائیں بازو کو الحاق پر ایک علامتی انعام کی پیشکش کر کے نیتن یاہو اپنی حکومت کے خاتمے کو روکتا ہوا دکھائی دیتا ہے ،گو قطری ثالثی میں حماس کے ساتھ جنگ بندی کے مذاکرات کسی نہ کسی طور جاری ہیں۔دلیانی اس اقدام کو "موقع پرست" قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں: "یہ بڑھتے ہوئے بین الاقوامی قانونی جانچ پڑتال کو پہلے سے بے اثر کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، خاص طور پر جولائی 2023 ء میں بین الاقوامی عدالت انصاف کی مشاورتی رائے کے بعد، جس نے فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے قبضے کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔"
دانتوں کے بغیر بین الاقوامی مذمت
بین الاقوامی برادری کی طرف سے ردعمل تیز لیکن دانتوں کے بغیر تھا۔ اردن نے ووٹنگ کی مذمت کرتے ہوئے اسے "بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی" قرار دیا۔ یوروپی یونین اور عرب لیگ نے دو ریاستی حل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اسی طرح کے الفاظ کی سرزنش کی۔لیکن دونوں فلسطینی تجزیہ کار معنی خیز نتائج کی کمی کی وجہ سے غیر متزلزل تھے۔
"تاریخی ریکارڈ ہمیں سکھاتا ہے کہ بین الاقوامی اتفاق رائے ہمیشہ عمل میں نہیں آتا۔" دلیانی کا کہنا ہے " یہاں تک کہ غزہ میں اسرائیلی نسل کشی اور یروشلم اور مغربی کنارے کے باقی حصوں میں زبردست جنگی جرائم کے دستاویزی لائیو سٹریم کے درمیان اہم مغربی طاقتوں، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ اسرائیل کی صف بندی مزید مضبوط ہوئی ہے ۔"
انہوں نے امریکی فوجی تعاون کا حوالہ دیا جو 3.
نمر بھی اس بارے میں کھل کر بات کرتے ہیں "اسرائیل کنیسٹ میں بھاری اکثریت کے ساتھ اس فیصلے میں آیا۔ اس کا مطلب ہے کہ اسرائیلی بین الاقوامی برادری کی رائے کی پرواہ نہیں کرتے۔ یورپی یونین نے غزہ میں نسل کشی اور بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا مگر پھر بھی کوئی حقیقی کارروائی نہیں کی۔اگر کوئی سزا نہیں ملتی ہے" نمر کا کہنا ہے "اور اِسے رضامندی سے تعبیر کیا جاتا ہے تو اب اسرائیلی محسوس کرتے ہیں کہ ان کے سامنے سبز روشنی آ گئی ہے۔"
اسرائیل کی مغربی تسلط اور اس کے نتائج
تجزیہ کار اسرائیل کو حاصل اس استثنیٰ کو مغربی جغرافیائی سیاسی مدار میں اس کی مضبوط پوزیشن سے جوڑتے ہیں۔ 2024 ء میں یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان دوطرفہ تجارت 46 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ جرمنی، فرانس اور نیدرلینڈز دوہری استعمال کی اسرائیلی ٹیکنالوجیز کے سرفہرست برآمد کنندگان میں شامل ہیں۔دریں اثنا امریکہ نے بائیڈن انتظامیہ کے تحت اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ ،دونوں میں اضافہ کیا یہاں تک کہ اس نے عوامی طور پر الحاق کی مخالفت کو برقرار رکھا۔
"یہ دوہرا معیار عالمی طاقت کے ڈھانچے میں شامل ہے" دلیانی کہتے ہیں۔ 2014 ء میں کریمیا کی صورت حال پر مغرب نے روس کے خلاف سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ اس کے برعکس غزہ میں اسرائیلی ریاست کی جاری نسل کشی اور مغربی کنارے کے اصل الحاق جیسے جرائم پر اسرائیل کو اسلحے کی بڑھتی ہوئی منتقلی اور سفارتی امداد سے نوازا گیا ہے۔"
"اسرائیل مشرق وسطی میں ایک اسٹریٹجک مغربی نوآبادیاتی گڑھ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ یقینی بناتا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا جائے۔ روس کے برعکس جو مغربی نظام کے لیے ایک خطرہ کے طور پر اٹھایا کیا گیا ہے، اسرائیل کو اس حکم کی توسیع کے طور پر پیش کیا جاتا ہے یہاں تک کہ جب وہ بین الاقوامی اصولوں کو بھی توڑ دیتا ہے۔"
دلیانی نے مزید کہا کہ اسرائیل کے اقدامات کو تنقید سے بچانے کے لیے یہود دشمنی کے الزامات کو حکمت عملی کے ساتھ لگایا جاتا ہے۔ اس کے نسل کشی کے جنگی جرائم کے ناقدین کو خاموش کرنے کے لیے یہود دشمنی کے الزامات کو صہیونی آلہ کار بنانے پر اسرائیلی ریاست کو جوابدہی سے مزید محفوظ کر دیا ہے۔"
نمر اتفاق کرتے کہتے ہیں "دوہرا معیار بین الاقوامی سفارت کاری کا نعرہ بن چکا ، ایسا نعرہ جو اعلانیہ نہیں لگایا جاتا۔سبھی ممالک اسرائیل کے ساتھ روس یا چین کے مقابلے میں مختلف طریقے سے نمٹتے ہیں کیونکہ اسرائیل اسی سامراجی اور سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ ہے جس سے وہ تعلق رکھتے ہیں۔"
انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد کے بین الاقوامی قانونی فریم ورک کی عالمی سطح پر دوبارہ تشکیل پر زور دیا۔ "ان تمام قوانین بشمول اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔اب یہ نظام ٹوٹ چکا ہے۔ امریکی ویٹو خطّے میں اس کے پسندیدہ اتحادی، اسرائیل جیسے ملک کے خلاف کسی بھی فیصلے کو روک سکتا ہے۔"
آگے کیا ہو گا؟
دونوں ماہرین کا خیال ہے کہ کنیسٹ کی ووٹنگ کے نتائج سفارتی بیان بازی سے کہیں آگے ہیں۔ نمر کے نزدیک یہ معاملہ فلسطینی قیادت کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہونا چاہیے۔
"یہ فیصلہ تمام فلسطینیوں کو متاثر کرتا ہے،" نمر کا کہنا ہے۔ "دو ریاستی حل نہ صرف یہ کہ ہمارے پیچھے نہیں بلکہ وہ سرکاری طور پر ختم ہوچکا۔ اسرائیلی قانون نے اوسلو معاہدے کو اڑا دیا ہے۔" یاد رہے1990ء کی دہائی میں دستخط کیے گئیاوسلو فریم ورک نے اسرائیلی نگرانی کے تحت محدود فلسطینی خود مختاری کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ ایک سمجھوتہ تھا جس کا مقصد دو ریاستی حل کی طرف راہ ہموار کرنا تھا جو اب مکمل طور پر دفن نظر آتا ہے۔
نمر نے فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ٹھوس اقدامات اٹھائے، جس کا آغاز اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی کوآرڈینیشن ختم کرنے سے ہوتا ہے،ایک ایسا عمل جس پر طویل عرصے سے فلسطینی سول سوسائٹی نے تعاون کے طور پر تنقید کی تھی۔
"اگر اوسلو مر گیا ہے، تو پھر ہم اس میں اپنا حصہ کیوں رکھیں؟ فلسطینی اتھارٹی کو فوری طور پر تمام سیکورٹی تعاون بند کرنا چاہیے۔ اس سے ایک مضبوط پیغام جائے گا۔"اس سے آگے نمر نے قومی اتحاد پر زور دیا۔ "اس وجودی خطرے کے خلاف حکمت عملی بنانے کے لیے ہمیں ایک متحدہ محاذ … الفتح، حماس اور تمام دھڑوں کے اتحاد کی ضرورت ہے۔ کئی دہائیوں سے ہمارے پاس دو راستے تھے: اوسلو کے تحت مذاکرات، یا مزاحمت۔ اب اوسلو کا راستہ خود اسرائیل نے بند کر دیا ہے۔"
دلیانی کا بھی خیال ہے کہ فلسطینیوں کو معاملات اپنے ہاتھ میں لینا چاہیں۔’’ہم اب نظریاتی الحاق کے ساتھ معاملہ نہیں کر رہے ہیں،" انہوں نے کہا "اسے نافذ کرنے کے اسرائیلی قانونی طریقہ کار کے ساتھ یہ نسل پرستی اور یہودی آباد کاروں کے استعماری تسلط کو معمول پر لانا ہے ۔ فلسطینیوں کو اب نچلی سطح پر مزاحمت کی تعمیر، بین الاقوامی سول سوسائٹی کو متحرک کرنے اور اسرائیلی جمہوریت کے افسانے کو ختم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔"
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی میں اسرائیل کہ اسرائیل پر اسرائیل اسرائیل کی اسرائیل کے کے لیے ایک کا کہنا ہے دلیانی نے کے طور پر ا باد کار کہتے ہیں رہے ہیں کرنے کے جاتا ہے کرتا ہے کے ساتھ گیا ہے کے تحت
پڑھیں:
جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
اسلام ٹائمز: اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ تحریر: سید محمد
کسی پرانے جوئے خانے کی ایک کہاوت مشہور ہے "تم اس وقت تک حقیقتاً نہیں پھنستے جب تک تمہیں یہ احساس نہ ہو جائے کہ باہر نکلنے کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔" مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی بساط پر اسرائیل یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ ظاہری بیانیے کو ایک طرف رکھیں تو ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے: اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت یا میزائل پروگرام سے کم اور امریکی انخلا کے محض امکان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کوئی معمولی تشویش نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت ہے، جو اسرائیلی حکمتِ عملی کے ہر پہلو کو تشکیل دے رہی ہے۔
اسرائیل ہر اس راستے کو سبوتاژ کرتا دکھائی دیتا ہے، جو واشنگٹن کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکے۔ یہاں جنگ کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اتحادی کو اس حد تک اندر کھینچ لینا ہے کہ وہ خود جنگ کا قیدی بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں شریک رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس حد تک شریک ہو جائے کہ بعد میں الگ نہ ہوسکے۔ یہ حکمتِ عملی ایک نفسیاتی اور سیاسی جال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ابتدا ہی سے اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلا اور ٹرمپ اپنی طاقت اور امریکی بالادستی کے تصور میں اس قدر گرفتار رہا کہ اسے واپسی کا راستہ دکھائی نہ دیا۔
ایران اور مزاحمتی محاذ کی استقامت نے امریکی عسکری برتری کے اُس طلسم کو چیلنج کر دیا، جسے دہائیوں سے ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع عسکری اتحاد بھی خطے میں پیدا ہونے والی نئی بے یقینی کو روک نہ سکے، جبکہ امریکی دفاعی چھتری اور اڈوں کی محدودیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اسی میدان میں اہداف کا مسلسل سکڑنا بھی صورتِ حال کا مظہر تھا۔ ایران میں رجیم تبدیلی جیسے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا معرکہ بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے، دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے جیسے محدود اہداف تک سمٹ آیا، جبکہ امریکی دھمکیاں بھی بتدریج ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئیں۔
اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ دوسری طرف سفارتی اخراج کا راستہ تھا، مگر یہاں بھی مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل جس صف بندی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے، وہی امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی تھی۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں، توانائی کی تنصیبات اور سرمایہ کاری کے مراکز کے باعث براہِ راست خطرات سے دوچار ہوسکتی تھیں۔ اسی لیے وہ ایسے راستوں کی تلاش میں تھیں، جو ضروری نہیں کہ اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے لیے واپس چلا جاتا ہے تو اسرائیل تنہا رہ جاتا ہے، لیکن اگر پورا امریکی وقار، افواج اور سیاسی سرمایہ اس جنگ سے جڑ جائے تو واشنگٹن کے لیے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
روایتی جنگوں کا مقصد دشمن کو شکست دینا ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس کا نشانہ دشمن نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا اتحادی یعنی امریکہ ہے۔ لبنان کا محاذ بھی اب صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر آلہ بن چکا ہے۔ جب بھی مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لبنان دوبارہ مرکزِ توجہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ یا سست کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ خطے کے اہم معاملات اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے بغیر بھی طے ہوسکتے ہیں اور یہی وہ تاثر ہے، جسے اسرائیل ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔
بعض ریاستوں کے لیے مستقل بحران خود ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ جاری کشیدگی اتحادیوں کو متحد اور سکیورٹی خدشات کو زندہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے فوری امن یا جامع سیاسی تصفیہ شاید اتنا مفید نہیں جتنا ایک ایسا کنٹرولڈ بحران جو مسلسل مغربی حمایت اور علاقائی توجہ کو اس کی طرف کھینچے رکھے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک دباؤ کے دائرے میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ایران کی ایسی مزاحمت ہے، جو کسی حتمی فوجی حل کو ناممکن بناتی ہے، دوسری طرف اسرائیل کی خواہش ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر بحران میں جکڑا رہے، جبکہ تیسری طرف علاقائی اتحادی کشیدگی میں کمی چاہیتے ہیں تاکہ ان کی معیشتیں اور داخلی استحکام محفوظ رہ سکیں۔ نتیجتاً امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا ہے، جہاں آگے بڑھنا بھی خطرناک ہے، پیچھے ہٹنا بھی مشکل اور جمود بھی اتحادیوں کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی مخالف اتحاد کے اندر موجود تضادات، کمزوریوں اور متصادم مفادات کو بے نقاب کرنے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھانچے میں دراڑیں نمایاں کرنے میں ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت سے نارملائزیشن فریم ورک کو شدید دھچکا پہنچنے کے باوجود، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن جیسے ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور واضح سیاسی صف بندی کے لیے دباؤ بڑھانا بھی قابلِ توجہ ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک سے ایک ایسے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ عسکری، معاشی اور سیاسی نتائج کا بوجھ بھی انہیں خود اٹھانا پڑ سکتا ہے۔