Express News:
2026-07-24@11:15:32 GMT

اسرائیل نے ایک نیا نقشہ بنا لیا

اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT

پچھلے دنوں ایک اہم لیکن غیر پابند اقدام میں اسرائیل کی پارلیمنٹ، کنیسٹ میں اسرائیلی مقننہ نے بھاری اکثریت سے ایک اعلامیہ کی منظوری دی ہے جس میں مقبوضہ مغربی کنارے اور وادی اردن میں یہودی بستیوں پر اسرائیلی خودمختاری کی فوری توسیع پر زور دیا گیا ہے۔13 کے مقابلے میں 71  ووٹوں سے منظور ہونے والی اس تحریک کو دائیں بازو اور مرکزی دائیں بازو کی اسرائیلی پارٹیوں کی حمایت حاصل تھی جن میں لیکود، شاس، مذہبی صیہونیت، اوتزما یہودیت اور یسرائیل بیتینو شامل ہیں۔

متن میں اعلان کیا گیا کہ 7 اکتوبر 2023 ء کو حماس کا حملہ جسے اسرائیلی سیاسی گفتگو میں "سمچات تورہ قتل عام" کہا جاتا ہے، یہ ثابت کرتا ہے کہ فلسطینی ریاست کا قیام اسرائیل کے وجود کے لیے ایک جان لیوا خطرہ ہے۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’’کنیسٹ اعلان کرتی ہے کہ اسرائیل کی سرزمین کے تمام حصوں کو اپنے وجود میں شامل کرنا اس کا فطری، تاریخی اور قانونی حق ہے۔ "کنیسٹ حکومت اسرائیل سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ یہودیہ، سامریہ اور وادی اردن میں یہودی آباد کاری کے تمام علاقوں پر خودمختاری کا اطلاق کرنے کے لیے بلا تاخیر عمل کرے۔"

یہ بالکل بھی علامتی نہیں

اس قرارداد پر علامتی کا لیبل لگایا گیا ہے، مگر فلسطینی ماہرین اس ووٹ کو مغربی کنارے میں اسرائیل کی مستقل موجودگی اور حکمرانی کے لیے نوکر شاہی کی بنیاد رکھنے کے طور پر دیکھتے ہیں جو بین الاقوامی اتفاق رائے کے ذریعے مستقبل کی فلسطینی ریاست کا مرکز ہے۔مغربی کنارے کی برزیٹ یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر سعد نمر کہتے ہیں، اس اقدام کے مضمرات دور رس ہیں۔

"یہ بالکل بھی علامتی نہیں ۔" نمر کا کہنا ہے "اس کا مطلب ہے کہ ان بستیوں کو اب اسرائیلی شہروں کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ وہ فوجی قانون کے تحت اب 'قبضہ' نہیں رہے ہیں۔ یہ الحاق کا قانونی اور بیوروکریٹک بنیادی ڈھانچہ ہے۔"وہ مذید کہتے ہیں "اسرائیلی وزارتیں ، فوج نہیں ، اب ان علاقوں میں صحت، بہبود، منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کی نگرانی کریں گی۔ یہ تھیوری نہیں ،یہ بلڈوزر، بجٹ اور توسیع کے بارے میں ہے۔"

فلسطین کی فتح انقلابی کونسل کے ایک رکن، دیمتری دلیانی نے ان جذبات کی بازگشت کی۔ان کا کہنا ہے ’’ووٹ کو علامتی طور پر بیان کرنا خطرناک حد تک نادانی ہے۔" دلیانی نے خبردار کیا۔ "اسرائیلی سیاست میں علامت پرستی اکثر حقیقت میں الحاق کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ گو کنیسٹ کی تحریک میں پابند قانون سازی کی اتھارٹی کا فقدان ہے، یہ نئے گھریلو سیاسی جواز کے ساتھ ریاست اسرائیل کے آباد کار نوآبادیاتی منصوبے کو وسعت دینے کے لیے حکومت اور اپوزیشن، دونوں میں اتفاق رائے پیدا کر سکتی ہے۔"

دلیانی نے مزید کہا کہ کنیسٹ کے اراکان پہلے ہی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اصطلاح "ویسٹ بینک" کو بائبل کے "یہودا اور سامریہ" سے بدلنے کے لیے قانون سازی پر زور دے رہے ہیں ۔یوں وہ اسرائیلی قانون میں قوم پرست بیانیہ کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔

 سیاسی لین دین

بہت سے تجزیہ کار اس ووٹنگ کو نہ صرف نظریاتی بلکہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے کمزور حکومتی اتحاد کو بچانے کے لیے ایک حکمت عملی کے طور پر سیاسی چال کے طور پر دیکھتے ہیں۔

"یہ بالکل واضح ہے کہ یہ ایک سیاسی تبادلہ تھا،" نمر نے کہا۔ "قومی مذہبی پارٹی اور مذہبی صیہونیت بیزلیل کے رہنما، سموٹریچ اوراوزمہ یہودیت ("یہودی طاقت") پارٹی کے رہنما،بین گویر نے دھمکی دی تھی کہ اگر دوحہ میں مذاکرات غزہ میں جنگ بندی کا باعث بنتے ہیں تو وہ حکومت چھوڑ دیں گے۔ یہ ووٹ نیتن یاہو کا انہیںاپنے ساتھ رکھنے کا طریقہ ہے۔"

انتہائی دائیں بازو کو الحاق پر ایک علامتی انعام کی پیشکش کر کے نیتن یاہو اپنی حکومت کے خاتمے کو روکتا ہوا دکھائی دیتا ہے ،گو قطری ثالثی میں حماس کے ساتھ جنگ بندی کے مذاکرات کسی نہ کسی طور جاری ہیں۔دلیانی اس اقدام کو "موقع پرست" قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں: "یہ بڑھتے ہوئے بین الاقوامی قانونی جانچ پڑتال کو پہلے سے بے اثر کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، خاص طور پر جولائی 2023 ء میں بین الاقوامی عدالت انصاف کی مشاورتی رائے کے بعد، جس نے فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے قبضے کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔"

دانتوں کے بغیر بین الاقوامی مذمت

بین الاقوامی برادری کی طرف سے ردعمل تیز لیکن دانتوں کے بغیر تھا۔ اردن نے ووٹنگ کی مذمت کرتے ہوئے اسے "بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی" قرار دیا۔ یوروپی یونین اور عرب لیگ نے دو ریاستی حل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اسی طرح کے الفاظ کی سرزنش کی۔لیکن دونوں فلسطینی تجزیہ کار معنی خیز نتائج کی کمی کی وجہ سے غیر متزلزل تھے۔

"تاریخی ریکارڈ ہمیں سکھاتا ہے کہ بین الاقوامی اتفاق رائے ہمیشہ عمل میں نہیں آتا۔" دلیانی کا کہنا ہے " یہاں تک کہ غزہ میں اسرائیلی نسل کشی اور یروشلم اور مغربی کنارے کے باقی حصوں میں زبردست جنگی جرائم کے دستاویزی لائیو سٹریم کے درمیان اہم مغربی طاقتوں، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ اسرائیل کی صف بندی مزید مضبوط ہوئی ہے ۔"

انہوں نے امریکی فوجی تعاون کا حوالہ دیا جو 3.

8 بلین ڈالر سالانہ امداد کی مد میں ہے اور اکتوبر 2023 ء میں غزہ پر جنگ شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 20 بلین ڈالر کی اضافی فوجی امداد تک پہنچ چکا ہے۔دلیانی نے مزید کہا "اسرائیل یورپی یونین کے ساتھ وسیع تجارتی مراعات سے لطف اندوز ہونا جاری رکھے ہوئے ہے۔ دس لاکھ غیر قانونی نوآبادیاتی اسرائیلی آباد کاروں میں سے تین چوتھائی مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے میں مقیم ہیں۔ اس کے باوجود بین الاقوامی برادری کی طرف سے ردعمل نہ ہونے کے برابر ہے۔ روک تھام کی پابندیوں یا جوابدہی کے طریقہ کار کی عدم موجودگی کو اسرائیل آگے بڑھنے کی کھلی اجازت سے تعبیر کرتا ہے۔"

نمر بھی اس بارے میں کھل کر بات کرتے ہیں "اسرائیل کنیسٹ میں بھاری اکثریت کے ساتھ اس فیصلے میں آیا۔ اس کا مطلب ہے کہ اسرائیلی بین الاقوامی برادری کی رائے کی پرواہ نہیں کرتے۔ یورپی یونین نے غزہ میں نسل کشی اور بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا مگر پھر بھی کوئی حقیقی کارروائی نہیں کی۔اگر کوئی سزا نہیں ملتی ہے" نمر کا کہنا ہے "اور اِسے رضامندی سے تعبیر کیا جاتا ہے تو اب اسرائیلی محسوس کرتے ہیں کہ ان کے سامنے سبز روشنی آ گئی ہے۔"

اسرائیل کی مغربی تسلط اور اس کے نتائج

تجزیہ کار اسرائیل کو حاصل اس استثنیٰ کو مغربی جغرافیائی سیاسی مدار میں اس کی مضبوط پوزیشن سے جوڑتے ہیں۔ 2024 ء میں یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان دوطرفہ تجارت 46 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ جرمنی، فرانس اور نیدرلینڈز دوہری استعمال کی اسرائیلی ٹیکنالوجیز کے سرفہرست برآمد کنندگان میں شامل ہیں۔دریں اثنا امریکہ نے بائیڈن انتظامیہ کے تحت اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ ،دونوں میں اضافہ کیا یہاں تک کہ اس نے عوامی طور پر الحاق کی مخالفت کو برقرار رکھا۔

"یہ دوہرا معیار عالمی طاقت کے ڈھانچے میں شامل ہے" دلیانی کہتے ہیں۔ 2014 ء میں کریمیا کی صورت حال پر مغرب نے روس کے خلاف سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ اس کے برعکس غزہ میں اسرائیلی ریاست کی جاری نسل کشی اور مغربی کنارے کے اصل الحاق جیسے جرائم پر اسرائیل کو اسلحے کی بڑھتی ہوئی منتقلی اور سفارتی امداد سے نوازا گیا ہے۔"

"اسرائیل مشرق وسطی میں ایک اسٹریٹجک مغربی نوآبادیاتی گڑھ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ یقینی بناتا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کیا جائے۔ روس کے برعکس جو مغربی نظام کے لیے ایک خطرہ کے طور پر اٹھایا کیا گیا ہے، اسرائیل کو اس حکم کی توسیع کے طور پر پیش کیا جاتا ہے یہاں تک کہ جب وہ بین الاقوامی اصولوں کو بھی توڑ دیتا ہے۔"

دلیانی نے مزید کہا کہ اسرائیل کے اقدامات کو تنقید سے بچانے کے لیے یہود دشمنی کے الزامات کو حکمت عملی کے ساتھ لگایا جاتا ہے۔ اس کے نسل کشی کے جنگی جرائم کے ناقدین کو خاموش کرنے کے لیے یہود دشمنی کے الزامات کو صہیونی آلہ کار بنانے پر اسرائیلی ریاست کو جوابدہی سے مزید محفوظ کر دیا ہے۔"

نمر اتفاق کرتے کہتے ہیں "دوہرا معیار بین الاقوامی سفارت کاری کا نعرہ بن چکا ، ایسا نعرہ جو اعلانیہ نہیں لگایا جاتا۔سبھی ممالک اسرائیل کے ساتھ روس یا چین کے مقابلے میں مختلف طریقے سے نمٹتے ہیں کیونکہ اسرائیل اسی سامراجی اور سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ ہے جس سے وہ تعلق رکھتے ہیں۔"

انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد کے بین الاقوامی قانونی فریم ورک کی عالمی سطح پر دوبارہ تشکیل پر زور دیا۔ "ان تمام قوانین بشمول اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔اب یہ نظام ٹوٹ چکا ہے۔ امریکی ویٹو خطّے میں اس کے پسندیدہ اتحادی، اسرائیل جیسے ملک کے خلاف کسی بھی فیصلے کو روک سکتا ہے۔"

آگے کیا ہو گا؟

دونوں ماہرین کا خیال ہے کہ کنیسٹ کی ووٹنگ کے نتائج سفارتی بیان بازی سے کہیں آگے ہیں۔ نمر کے نزدیک یہ معاملہ فلسطینی قیادت کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہونا چاہیے۔

"یہ فیصلہ تمام فلسطینیوں کو متاثر کرتا ہے،" نمر کا کہنا ہے۔ "دو ریاستی حل نہ صرف یہ کہ ہمارے پیچھے نہیں بلکہ وہ سرکاری طور پر ختم ہوچکا۔ اسرائیلی قانون نے اوسلو معاہدے کو اڑا دیا ہے۔" یاد رہے1990ء کی دہائی میں دستخط کیے گئیاوسلو فریم ورک نے اسرائیلی نگرانی کے تحت محدود فلسطینی خود مختاری کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ ایک سمجھوتہ تھا جس کا مقصد دو ریاستی حل کی طرف راہ ہموار کرنا تھا جو اب مکمل طور پر دفن نظر آتا ہے۔

نمر نے فلسطینی اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ٹھوس اقدامات اٹھائے، جس کا آغاز اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی کوآرڈینیشن ختم کرنے سے ہوتا ہے،ایک ایسا عمل جس پر طویل عرصے سے فلسطینی سول سوسائٹی نے تعاون کے طور پر تنقید کی تھی۔

"اگر اوسلو مر گیا ہے، تو پھر ہم اس میں اپنا حصہ کیوں رکھیں؟ فلسطینی اتھارٹی کو فوری طور پر تمام سیکورٹی تعاون بند کرنا چاہیے۔ اس سے ایک مضبوط پیغام جائے گا۔"اس سے آگے نمر نے قومی اتحاد پر زور دیا۔ "اس وجودی خطرے کے خلاف حکمت عملی بنانے کے لیے ہمیں ایک متحدہ محاذ … الفتح، حماس اور تمام دھڑوں کے اتحاد کی ضرورت ہے۔ کئی دہائیوں سے ہمارے پاس دو راستے تھے: اوسلو کے تحت مذاکرات، یا مزاحمت۔ اب اوسلو کا راستہ خود اسرائیل نے بند کر دیا ہے۔"

دلیانی کا بھی خیال ہے کہ فلسطینیوں کو معاملات اپنے ہاتھ میں لینا چاہیں۔’’ہم اب نظریاتی الحاق کے ساتھ معاملہ نہیں کر رہے ہیں،" انہوں نے کہا "اسے نافذ کرنے کے اسرائیلی قانونی طریقہ کار کے ساتھ یہ نسل پرستی اور یہودی آباد کاروں کے استعماری تسلط کو معمول پر لانا ہے ۔ فلسطینیوں کو اب نچلی سطح پر مزاحمت کی تعمیر، بین الاقوامی سول سوسائٹی کو متحرک کرنے اور اسرائیلی جمہوریت کے افسانے کو ختم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔" 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی میں اسرائیل کہ اسرائیل پر اسرائیل اسرائیل کی اسرائیل کے کے لیے ایک کا کہنا ہے دلیانی نے کے طور پر ا باد کار کہتے ہیں رہے ہیں کرنے کے جاتا ہے کرتا ہے کے ساتھ گیا ہے کے تحت

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ

پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔

وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔

آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی  کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔

مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم