فائر فائٹرز کا عالمی دن آج ،مختلف اداروں کے زیراہتمام پروگرامز، کانفرنسز اور سیمینارز کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاکستان سمیت دنیا میں فائر فائٹرز کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق 4 مئی کا دن دنیا بھر میں ان فائر فائٹرز کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے منایا جاتا ہے جو اپنی جانیں عوام کی جان و مال کی حفاظت کرتے ہوئے نچھاور کر دیتے ہیں۔
عالمی سطح پر فائر فائٹرز کا دن منانے کا آغاز 1999 میں شروع ہوا تھا، اس کی بنیادی وجہ آسٹریلیا میں لگنے والی وہ آگ تھی جس کو بجھانے کی کوشش میں پانچ فائرفائٹرز اپنی جان کی بازی ہار گئے تھے۔
فائر فائٹرز ڈے منانے کا مقصد ان ہیروز کی اہمیت اور خدمات کا اعتراف اور انہیں درپیش مسائل اجاگر اور حل کرنا ہے، بدقسمتی سے پاکستان میں ان ہیروز کو وہ مقام اور سہولیات نہ مل سکیں جس کے یہ حق دار ہیں۔
اس دن کی مناسبت سے ملک بھر میں مختلف اداروں کے زیراہتمام پروگرامز، کانفرنسز اور سیمینارز کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی ٹرک کھائی میں گر کر تباہ، 3 اہلکار ہلاک
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: فائر فائٹرز
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔