بھارت لائن آف کنٹرول پر کسی بھی جگہ حملہ کر سکتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
سٹی42: وزیر دفاع خواجہ آصف نے یہ اطلاع عوام کے ساتھ شئیر کی ہے کہ بھارت لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر کسی بھی جگہ حملہ کر سکتا ہے۔
خواجہ آصف نے بتایا کہ بھارت کو ان شاءاللہ منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اس چیز کا فیصلہ ہو جانا چاہیے کہ نریندر مودی جھوٹ بول رہا ہے یا سچ بول رہا ہے، اس کے بعد اس کو کہیں کہ نریندر مودی تم جھوٹے ہو، ساری دنیا کا امن تباہ کر رہے ہو۔ مودی سے کہیں کہ تم نے بر صغیر کو ایٹمی جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ شہباز شریف پہلے کہہ چکے ہیں کہ بین الاقوامی کمیشن بن جائے جو پہلگام واقعے کی تحقیقات کرے، تحقیقات سے پتہ چلے گا کہ بھارت خود ملوث ہے یا وہاں کا کوئی گروپ اس واقعہ میں ملوث ہے، یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ جو پاکستان پر الزام لگ رہا ہے اس میں کیا صداقت ہے۔
اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کردی
وزیر دفاع نے کہا، مودی اپنا ووٹ بنانے کے لیے ڈرامہ کر رہا ہے، بھارت خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے، خیبر پختونخوا میں بھارتی دہشت گردی کے ثبوت ہم نے 2016 اور 2017 میں اقوام متحدہ میں دیے تھے، ان ثبوتوں میں ویڈیوز موجود ہیں کہ بھارت کیسے لوگوں کو پیسے دے کر دہشت گردی کرواتا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ آج ہمارے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ افغانستان کی سرزمین سے ہو رہا ہے، بلوچستان ہو یا خیبرپختونخوا، وہاں دہشت گردی افغانستان سے ہوتی ہے، پیچھے بھارت ہے۔
یہ اپریل ہسٹری کا گرم ترین اپریل کیوں تھا
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف نے کہ بھارت رہا ہے
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔