ایئر فرانس‘ لفتھانسا‘ ایمرٹس ’سوئس ایئرزسمیت کئی بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے پاکستانی فضائی حدود کا استعمال ترک کردیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
پیرس(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 06 مئی ۔2025 )دنیا کی متعددبڑی ہوائی کمپنیوں نے پاکستان کی فضائی حدود کا استعمال بند کردیا ہے اور بھارت کے لیے پروازیں متبادل روٹ استعمال کررہی ہیں ایئر فرانس‘ جرمن ایئرلائن” لفتھانسا“ متحدہ عرب امارات کی فضائی کمپنی ’ایمرٹس“سوئٹزلینڈکی ”سوئس ایئرز“سمیت متعدد بین الاقوامی ایئر لائنز پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے سے اجتناب کر رہی ہیں.
(جاری ہے)
بین الاقوامی ادارے” روئٹرز“ کے مطابق ایئر فرانس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر ایئرلائن نے اگلے نوٹس تک پاکستان کی فضائی حدود کا استعمال معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ایئر فرانس کا کہنا ہے کہ پروازوں کا دورانیہ بڑھنے کے باعث وہ دہلی، بینگکاک اور ہو چی من کی پروازوں کا نیا شیڈول جاری کر رہے ہیں. اس سے قبل ایئر لائنز گروپ لفتھانسا نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ صورتحال میں لفتھانسا گروپ کی ایئرلائنز غیر معینہ مدت کے لیے پاکستان کی ایئر سپیس استعمال نہیں کر رہی اس کی وجہ سے ایشیا کے لیے کچھ روٹس پر فلائٹس کے دورانیے میں اضافہ ہو سکتا ہے. ایک بیان میں کمپنی نے کہا کہ ہم تمام مسافروں سے روانگی سے قبل فلائٹ کی تمام تفصیلات ایپ اور ویب سائٹ سے تصدیق کرنے کی درخواست کرتے ہیں لفتھانسا گروپ تمام پیشرفت کا جائزہ لے رہی ہے لفتھانسا گروپ میں موجود تمام ایئرلائنز کے لیے تحفظ سب سے اہم ترجیح ہے. پروازوں کے ڈیٹا پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ فلائیٹ ریڈار 24 کے مطابق اتوار کے روز فرینکفرٹ سے نئی دہلی جانے والی لفتھانسا کی پرواز LH760 معمول سے لمبا روٹ استعمال کرنے کے باعث ایک گھنٹہ اضافی وقت لگا فلائیٹ ڈیٹا کے مطابق برٹش ایئرویز، سوئس انٹرنیشنل ایئر لائن اور ایمرٹس نے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کے بجائے بحیرہ عرب کے اوپر سے گزر کر دہلی گئیں برٹش ایئر ویز اور ایمرٹس نے تاحال اس پر تبصرہ نہیں کیا ہے اس لمبے روٹ کے استعمال کے نتیجے میں نہ صرف ایئرلائنز کی فیول کی لاگت میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کو اپنی فضائی حدود کی استعمال کی فیس کی مد میں ملنے والی آمدنی میں کمی آئے گی. امارات کی دبئی سے دہلی کی پرواز ای کے 517 کو بھی نصف گھنٹے سے زائد کا اضافی دورانیہ بڑھ رہا ہے امارات کی ممبئی، احمد آباد اور دیگر شہروں کی پروازیں بھی پاکستانی حدود کو نظر انداز کر کے منزل تک جاتے ہیں بھارت نے بھی پاکستانی ایئرلائنز کیلئے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہیں جبکہ پاکستان نے بھارتی ایئر لائنز پر پابندیاں عائد کردی تھیں اس کشیدگی کے باوجود پاکستان بین الاقوامی ایئر لائنز کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی رکھی ہے تاہم لفتھانسا‘ ایئر فرانس‘سوئس ایئرلائنز‘ایمرٹس سمیٹ متعددفضائی کمپنیوں نے رضاکارانہ طور پر پاکستان کی فضائی حدود کا استعمال بندکردیا ہے جبکہ برٹش ایئر ابھی تک اسلام آباد کے لئے اپ اینڈ ڈاﺅن کی پرواز بی اے 2161 اور 2160 آپریٹ کر رہی ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے فضائی حدود کا استعمال پاکستان کی فضائی حدود بین الاقوامی استعمال کرنے ایئر فرانس ایئر لائنز کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :