پاکستان کو 2.3 ارب ڈالر دینے کیلئے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اہم اجلاس آج ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کا اہم اجلاس آج منعقد ہو رہا ہے جس میں پاکستان کو 2.3 ارب ڈالر کی فراہمی کی منظوری دی جائے گی ذرائع کے مطابق اس رقم میں ایک ارب ڈالر ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسیلیٹی جبکہ 1.3 ارب ڈالر ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلیٹی کے تحت دیئے جائیں گے منظوری کے بعد ایک ارب ڈالر کی پہلی قسط فوری طور پر جاری کی جائے گی جبکہ باقی رقم آر ایس ایف پروگرام کے تحت مختلف اقساط میں پاکستان کو ملے گی ای ایف ایف پروگرام کی مدت 37 ماہ جبکہ آر ایس ایف کی مدت 28 ماہ مقرر کی گئی ہے وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں موجودہ قرض پروگرام کا پہلا جائزہ پیش کیا جائے گا اور پاکستان نے اس دوران اہم معاشی اہداف کامیابی سے حاصل کیے ہیں جن میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب پرائمری بیلنس اور صوبائی سرپلس شامل ہیں معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے یہ فنڈنگ پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے اور مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم ہے اس دوران بھارت کی جانب سے اس اجلاس کو رکوانے کی ناکام کوشش بھی کی گئی تاہم ناکامی کے بعد بھارت نے بورڈ میں موجود اپنے نمائندے کو عہدے سے ہٹا دیا یاد رہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کیلئے آئی ایم ایف کا وفد 14 مئی سے 22 مئی تک پاکستان کا دورہ کرے گا جس میں بجٹ اہداف اور مالیاتی پالیسیوں پر اہم مذاکرات ہوں گے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ارب ڈالر
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔