ٹرمپ کے لگائے گئے نئے ٹیرف سے امریکا کو اربوں ڈالر کی آمدنی، اتنا پیسہ کہاں خرچ ہوگا؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 7 August, 2025 سب نیوز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہر دوسرے دن یہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ اُن کی حکومت کو ممالک پر لگائے نئے ٹیرف یعنی درآمدی اشیاء پر اضافی ٹیکسوں کی مد میں ریکارڈ آمدنی ہو رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ ’ہمارے پاس بے حد پیسہ آ رہا ہے، جتنا اس ملک نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘ اور یہ سچ بھی ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق گزشتہ ماہ حکومت کو تقریباً 30 ارب ڈالر کی ٹیرف آمدنی ہوئی، جو کہ پچھلے سال جولائی کے مقابلے میں 242 فیصد زیادہ ہے۔ لیکن یہ آمدنی کہاں خرچ ہو رہی ہے اور کیا اس کا فائدہ امریکی عوام تک پہنچ رہا ہے؟


امریکی محکمہ خزانہ کے اعدادوشمار کے مطابق اپریل سے اب تک حکومت نے کل 100 ارب ڈالر ٹیرف کی صورت میں جمع کیے، جو گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے تجویز دی ہے کہ یہ رقم دو مقاصد کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے: قومی قرضے کی ادائیگی اور امریکی شہریوں کو ”ٹیرف ریبیٹ چیکس“ کی شکل میں ریلیف۔ تاہم، تاحال یہ دونوں اقدامات عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔


محکمہ خزانہ کے مطابق ٹیرف سمیت تمام حکومتی آمدنی ایک ”جنرل فنڈ“ میں جمع ہوتی ہے، جسے امریکہ کی چیک بک کہا جاتا ہے۔ اس فنڈ سے حکومت سوشل سیکیورٹی جیسے اخراجات ادا کرتی ہے۔ اگر آمدنی کم ہو اور اخراجات زیادہ ہوں، تو حکومت قرض لیتی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ”سی این این“ کے مطابق اس وقت امریکا پر 36 کھرب ڈالر سے زائد کا قرض واجب الادا ہے، جس پر سود بھی دینا پڑتا ہے۔
اگرچہ ٹیرف کی یہ خطیر آمدنی موجودہ مالی سال کے 1.

4 ٹریلین ڈالر کے بجٹ خسارے کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے کافی نہیں، لیکن ماہرین کے مطابق یہ خسارہ کم کرنے میں مدد دے رہی ہے اور حکومت کو کم قرض لینا پڑ رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کی ٹیرف آمدنی عوام میں تقسیم کرنے کی تجویز کو ریپبلکن سینیٹر جوش ہاؤلی نے قانون بنانے کی کوشش بھی کی، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس سے بجٹ خسارہ بڑھے گا اور مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ییل یونیورسٹی کے ماہر معاشیات ایرنی ٹیڈسکی کے مطابق ’یہ وقت اس پالیسی کے لیے درست نہیں، کیونکہ اس سے مہنگائی کی لہر آ سکتی ہے۔‘
اگرچہ بعض کاروباروں نے اضافی ٹیرف کا بوجھ خود برداشت کیا ہے، لیکن گھریلو آلات، کھلونے اور الیکٹرانکس جیسی مصنوعات میں قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ وال مارٹ اور پراکٹر اینڈ گیمبل جیسی بڑی کمپنیاں آنے والے دنوں میں قیمتیں مزید بڑھانے کا عندیہ دے چکی ہیں۔
ٹیڈسکی کے مطابق ’یہ ٹیرف امریکی معیشت پر منفی اثر ڈالیں گے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ان ٹیرف پالیسیوں کے نتیجے میں امریکی معیشت کی شرح نمو رواں سال اور اگلے سال آدھا فیصد کم ہو سکتی ہے، جس سے ٹیکس آمدنی میں کمی آئے گی۔
ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ٹیرف ریونیو اور حالیہ بڑے پیمانے پر ٹیکس میں کٹوتیوں سے امریکی معیشت کو طویل مدت میں زبردست فروغ ملے گا۔ تاہم، فی الحال نہ قرض کی ادائیگی ہوئی ہے، نہ ہی عوام کو کوئی مالیاتی ریلیف دیا گیا ہے، اور مہنگائی کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس بلند ترین سطح پر پہنچ گیا پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس بلند ترین سطح پر پہنچ گیا غیرت کے نام پر شادی شدہ لڑکی کا قتل، جرگے کے سربراہ کے تفتیش میں انکشافات بھارتی پرزے روسی جنگی ڈرونز میں استعمال ہونے کا انکشاف روزویلٹ کی نجکاری کے مالیاتی مشیر کے کام چھوڑنے سے قومی خزانے کو 5 کروڑ ڈالر نقصان کا خدشہ بھارت اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدہ کیوں ناکام ہوا؟ تفصیلات سامنے آگئی یوم آزادی کی آمد،اسلام آباد میں باجوں کی فروخت اوراستعمال پر پابندی عائد TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان