کراچی میں مسجد کے باہر فائرنگ سے شہری جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
مقتول ارم گارڈن بلاک تیرہ ڈی گلشن اقبال کا رہائشی اور چار بچوں کا باپ تھا، مقتول ٹرنسپورٹر تھا اور اس کا آبائی تعلق نارووال سے تھا۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کے علاقے گلشن اقبال میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مسجد سے نکلنے والے شہری کو گھات لگائے نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق عزیز بھٹی تھانے کے علاقے گلشن اقبال بلاک تیرہ ڈی میں واقع جامع مسجد غزالی کے باہرگھات لگائے تین نامعلوم مسلح ملزمان نے جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے بعد نکلنے سے شخص پراندھا دھند فائرنگ کر دی اور فرار ہوگئے۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص شدید زخمی اور مسجد کے باہر موجود 2 خواتین زخمی ہوگئیں، فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والا شخص نجی اسپتال میں دوران علاج دم توڑگیا۔ جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت 45 سالہ محمد اکرم کے نام سے کی گئی، مقتول ارم گارڈن بلاک تیرہ ڈی گلشن اقبال کا رہائشی اور چار بچوں کا باپ تھا، مقتول ٹرنسپورٹر تھا اور اس کا آبائی تعلق نارووال سے تھا۔
ایس ایس پی ایسٹ ڈاکٹر فرخ رضا کے مطابق مقتول جامع مسجد غزانی میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد جیسے ہی باہر نکلا تو باہر موجود نامعلوم مسلح ملزمان نے ان پر فائرنگ کی، جس سے بچ کر انہوں نے دوڑ لگا دی، حملہ آور تعاقب میں دوڑتے ہوئے آئے اور مزید فائر کئے۔ زخمی خواتین کی شناخت سائرہ اور زینت کے نام سے کی گئی، جن کی عمریں 55 سے 65 سال کے درمیان ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ہے کہ یکم رمضان کو مقتول کے بھتیجے کو بھی نامعلوم مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے قتل کیا تھا، واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے، پولیس نے جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول اورسی سی ٹی وی سمیت دیگرشواہد اکٹھا کرل یے ہیں، واقعے کی باریک بینی سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نامعلوم مسلح ملزمان نے گلشن اقبال
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز