پاکستان نے کبھی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا، سلمان خان کی پرانی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
بالی ووڈ اداکار سلمان خان نے بھارت کی جانب سے مسلسل پاکستان مخالف پروپیگنڈا کا جواب دے دیا۔
سلمان خان کا ایک پرانا ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں دہشتگردی کے الزامات کے خلاف بالی ووڈ اداکار سلمان خان پاکستان کے حق میں بیان دیتے نظر آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے سیز فائر کی کوئی درخواست نہیں کی، یہ خواہش بھارت کی تھی، ڈی جی آئی ایس پی آر
وائرل ویڈیو میں سلمان خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں خود اتنی دہشتگردی ہورہی ہے، یہ صورتحال پاکستان کے کنٹرول میں بھی نہیں ہے، وہاں پر کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے تو کیا وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ بھارتیوں نے کیا ہے؟
سلمان خان نے مزید کہا کہ کہتے ہیں کہ اسلام دہشتگردی کا مذہب ہے، نہ قرآن میں ایسا کچھ لکھا ہے، نہ حدیثوں میں لکھا ہے کہ کسی کی جان لو، کسی کو مار دو، اسلام یہ سب بالکل نہیں سکھاتا، یہ قرآن میں کہیں نہیں لکھا۔
View this post on Instagram
A post shared by ???????????????????? ???????????????? (@sallukhanniazi)
ان کا مزید کہنا تھا کہ پیسوں کے لیے، نفرت کے لیے کسی بے گناہ کو مارنا اس سے خراب اس دنیا میں کچھ نہیں ہو سکتا۔ سلمان خان نے کہا کہ یا تو آپ ان ٹرینرز کی باتیں سُن لیں یا پھر رسول اللہ ﷺ نے جو باتیں سکھائی ہیں حدیثوں میں، یا جو قرآن میں لکھا ہے اس پر عمل کریں۔
سلمان خان کی اس وائرل ویڈیو پر پاکستانی سوشل میڈیا صارفین ان کی حمایت اور تعریف کرتے نظر آ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ حال ہی میں سلمان خان کو پاک بھارت کشیدگی پر سیز فائر سے متعلق ٹوئٹ کرنا مہنگا پڑ گیا۔ بالی ووڈ کے ہیرو سلمان خان کو اُس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی پر ٹوئٹ کیا، لیکن اسے جلد ہی ڈیلیٹ کر دیا۔
بھارت اور پاکستان نے 4 روزہ کشیدگی کے بعد اچانک جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تو سلمان خان نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا تھا کہ شکر ہے، سیز فائر ہو گیا۔ جس کے بعد انہیں ہندوستانیوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ پاک بھارت جنگ سلمان خان سیز فائر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ پاک بھارت جنگ سیز فائر بالی ووڈ سیز فائر
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس