پاکستان اور بھارت کا جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2025ء) پاکستان اور بھارت کا جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق۔ تفصیلات کے مطابق پیر کے روز پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہاٹ لائن پر بات چیت کا پہلا راؤنڈ مکمل ہوگیا۔ پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان سیز فائرکا اگلا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے رابطہ ہوا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کی بات چیت میں جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ دونوں افواج کے درمیان کوئی فائرنگ نہیں ہوگی، شہری آبادیوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا، پاکستان اور بھارتی افواج کی جانب سے ڈرونز کے ذریعے کوئی دراندازی نہیں کی جائے گی۔ دوسری جانب وزیر دفاع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان گزشتہ دو سے تین دہائیوں سے دہشتگردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت کے ساتھ ان اہم مسائل پر بامعنی مذاکرات کئے جائیں۔(جاری ہے)
مذاکرات میں تین میجر پوائنٹس ہیں کشمیر، دہشت گردی اور پانی یہ تین ایسے معاملات ہیں جو پچھلے 76 سال سے ان کی تاریخ ہے۔ ان تینوں معاملات پر بحث ہونی چاہیے۔پاکستان میں دہشتگردی گزشتہ 20 یا 30 سال سے ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر پر بات کرکے ایک اور پیشرفت کی ہے۔اس لئے کشمیر کا معاملہ بھی زیر بحث آنا چاہیے۔پاکستان دہشتگردی کا سب سے بڑا شکار ہے اور کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ دہشت گردی کے شکار ملک پر الزام لگا کر حملہ کیا جائے۔دہشت گردی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرہ ہے اور اس کا حل اجتماعی سوچ اور تعاون میں ہے۔ جو ملک دہشتگردی کا سب سے بڑا شکار ہے اس پر الزام لگاکر حملہ کیا جائے یہ ستم ظریفی ہے۔ پانی کا مسئلہ 1960 کے معاہدے میں سیٹل ہے اسے معطل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔وزیر دفاع خواجہ آصف کامزید کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تقریباً ساری جنگیں ہی کشمیر پر لڑی گئی ہیں۔ پرسوں والی جنگ بھی کشمیر کا مسئلہ تھا۔ مودی نے خطے کو جہنم میں دھکیلنے کی کوشش کی۔ افواج پاکستان بھارت کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑی ہوگئیں اور بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کشمیر کو مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ بنانے کی حمایت کی ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام دیرینہ تنازعات کو بات چیت سے حل کیا جائے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔ ہم نے جس طرح منہ توڑ جواب دیا وہ زخم سہلا رہے ہیں، ان کی پارلیمنٹ میں مودی کو برا بھلا کہا جارہا ہے یہ اس بات کی علامت ہے، ان کا میڈیا اور فوجی بریفنگ میں اس کی جھلک نظر آرہی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان نے اپنے تحمل اور فوجی طاقت کا لوہا منوایا ہے۔پاکستان کو پچھلے 77 سال میں اتنی بڑی کامیابی کبھی نہیں ملی۔ یہ ہماری ڈپلومیٹک فتح بھی ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستان اور بھارت کے درمیان بھارت کے
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ