ملک میں بڑی گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ، چھوٹی گاڑیوں کی سیلز میں نمایاں کمی
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) حکومتی ناقص پالیسیوں کے سبب پاکستان میں طبقاتی فرق خطرناک حد تک بڑھنے لگا، ملک میں بڑی گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ، چھوٹی گاڑیوں کی سیلز میں نمایاں کمی۔
پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نےحیرت انگیز انکشافات کردیے، ان انکشافات کے مطابق اپریل میں 1300 سی سی اور بڑی گاڑیوں کی فروخت سالانہ 61 فیصد بڑھ کر 3212 یونٹس ہوگئی۔
اپریل میں 1000 سی سی گاڑیوں کی فروخت سالانہ 64 فیصد کم ہوکر 638 یونٹس ہوگئی، اپریل میں 1000 سی سی سے چھوٹی گاڑیوں کی فروخت میں سالانہ 48 اور ماہانہ 25 فیصد کمی ہوئی۔
پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق اپریل میں 1000 سی سی سے چھوٹی گاڑیوں کی فروخت 5 ہزار 23 یونٹس ہوگئیْ، مالی سال 25ء کے 10 ماہ میں بڑی گاڑیوں کی فروخت سالانہ 47 فیصد بڑھ کر 40369 یونٹس رہی۔
مالی سال 25ء کے 10 ماہ میں چھوٹی گاڑیوں کی فروخت سالانہ 36 فیصد کی کمی سے 3919 یونٹس رہی،مالی سال 25ء کے 10 ماہ میں گاڑیوں کی مجموعی فروخت سالانہ 40 فیصد بڑھ کر 1 لاکھ 11 ہزار یونٹس ہی۔
پی ایس ایل کے بقیہ میچز کے ٹکٹوں کی فروخت آج سے شروع ہو گی
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: گاڑیوں کی فروخت سالانہ اپریل میں
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔