صدر ٹرمپ نے خطے کو ہولناک تباہی سے بچا کر انسانیت کی خدمت کی، وزیر داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان سیز فائر کا کریڈٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جاتا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے کو ہولناک تباہی سے بچا کر انسانیت کی خدمت کی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکا کی قائم مقام سفیر نیٹلی بیکر کی اہم ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، پاک امریکا تعلقات اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال ہوا جبکہ پاک بھارت جنگ بندی کے بعد کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاک بھارت جنگ بندی میں کلیدی کردار پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سفیر کا شکریہ ادا کیا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کی قیادت سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مثبت خیالات کا خیر مقدم کرتے ہیں، امریکا کے ساتھ باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں۔
قائم مقام امریکی سفیر نیٹلی بیکر کا کہنا تھا پاکستان کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں، امریکا مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
ملاقات کے دوران وفاقی سیکریٹری داخلہ خرم آغا بھی اس موقع پر موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیر داخلہ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔