مجھے افواہیں پسند ہیں: بلال اشرف
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
بلال اشرف نے اپنی ذاتی زندگی سے متعلق چہ مگوئیوں پر ہنستے ہنستے جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے افواہیں پسند ہیں۔
پاکستان کے مقبول ترین اداکار بلال اشرف اکثر اپنی اداکاری سے زیادہ ذاتی زندگی کے حوالے سے خبروں میں رہتے ہیں۔
حال ہی میں بلال اشرف نے قیاس آرائیوں کا نہایت دلچسپ اور طنزیہ انداز میں جواب دیا، جس نے ان کے مداحوں کو مزید محظوظ کر دیا۔
اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بلال نے لکھا کہ مجھے افواہیں پسند ہیں، ان کے ذریعے میں اپنے بارے میں ایسی باتیں جانتا ہوں جو مجھے خود بھی معلوم نہیں ہوتیں۔
واضح رہے کہ بلال اشرف اور مایا علی کو حال ہی میں پی ایس ایل کے میچ (کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقابلہ لاہور قلندرز) میں ایک ساتھ دیکھا گیا، جس کے بعد ان کے تعلقات کے چرچے پھر سے تازہ ہو گئے تھے۔
لیکن اصل طوفان اُس وقت آیا جب دونوں نے ایک رومانوی فوٹو شوٹ کیا، جس میں اُن کی کیمسٹری اور ہم آہنگی نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی تھی۔
یاد رہے کہ مایا علی اور بلال اشرف نے کبھی کھل کر اپنے تعلق کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بلال اشرف
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔