فیشن کا نیا چہرہ: محمد عثمان ملک جدت جمال اور جرات کی کہانی
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
پاکستان کی فیشن اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں جہاں اکثر چہرے ایک جیسے لگتے ہیں، وہیں محمد عثمان ملک اپنی الگ پہچان کے ساتھ ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ اداکاری سے لے کر ماڈلنگ تک، اور اب فیشن کے میدان میں ان کی موجودگی نہ صرف نمایاں ہے بلکہ قابلِ گفتگو بھی۔
عثمان ملک کا فیشن سینس محض اسٹائل نہیں، بلکہ ایک بیان ہے۔ وہ جو پہنتے ہیں، اس کے پیچھے سوچ ہوتی ہے کبھی کلچرل ریفرنس، کبھی جدید رحجانات سے جُڑا کوئی نیا تجربہ، اور کبھی بس ایک خاموش بغاوت۔ سادہ لفظوں میں: وہ فیشن کو فالو نہیں کرتے، بلکہ خود فیشن بناتے ہیں۔
ان کے حالیہ فوٹو شوٹس اور ریڈ کارپٹ لک نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا۔ انسٹاگرام پر ان کے منفرد کپڑوں، رنگوں کے انتخاب اور خوداعتمادی سے بھرپور کیریج نے مداحوں کو متاثر کیا، جبکہ کچھ ناقدین کو چکرا کر رکھ دیا۔ جہاں ایک طرف نوجوان فینز نے انہیں “پاکستانی ہری اسٹائلز” قرار دیا، وہیں چند روایت پسند صارفین نے ان کے اسٹائل کو “حد سے زیادہ مغربی” کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا۔
مگر سوال یہ ہے: کیا فیشن کا مطلب صرف روایتی حدود میں رہنا ہے؟
عثمان ملک کے نزدیک نہیں۔ ان کا کہنا ہے:
“فیشن میرے لیے صرف ظاہری چیز نہیں، یہ ایک طرزِ اظہار ہے۔ میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی پہنتا ہوں۔ اگر کسی کو وہ پسند نہیں آتا، تو وہ اُن کا نظریہ ہے میرا نہیں۔”
فیشن ناقدین کا ماننا ہے کہ عثمان ملک ایک “visual risk-taker” ہیں۔ وہ خطرے لیتے ہیں، وہ غلطیاں بھی کرتے ہیں، مگر وہ کوشش سے نہیں ڈرتے اور شاید یہی اُن کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ ان کی موجودگی اس انڈسٹری میں تازگی کا جھونکا ہے جو اکثر سٹنڈرڈ فیشن اور سیف پلے میں قید نظر آتی ہے۔
یقیناً، وہ ہر ایک کے ذوق سے میل نہیں کھاتے، مگر شاید اُن کا مقصد بھی یہی نہیں۔ وہ اپنے انداز سے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ “فیشن میں سب کے لیے جگہ ہے روایت پسندوں کے لیے بھی، اور اُن کے لیے بھی جو روایتوں کو نئے رنگ دینا چاہتے ہیں۔”
اداکاری کی دنیا میں ان کی پیش رفت جاری ہے، لیکن جو بات انہیں آج کے فیشن منظرنامے میں ممتاز کرتی ہے، وہ ہے ان کی غیر روایتی جرات، خوداعتمادی، اور الگ سوچ۔
پاکستانی فیشن کے افق پر اگر کوئی نیا نام روشن ہو رہا ہے، تو وہ بلا شبہ محمد عثمان ملک ہے ایک ایسا چہرہ، جو صرف نظر نہیں آتا، یاد رہ جاتا ہے۔
محمد عثمان ملک کی شوبز انڈسٹری پر بے باک رائے: “یہ دنیا خوابوں سے زیادہ حقیقت کی کڑی آزمائش ہے”
نوجوان اداکار، ماڈل اور گلوکار محمد عثمان ملک، جو مختصر وقت میں پاکستان کے شوبز منظرنامے پر ایک منفرد مقام حاصل کر چکے ہیں، نے حالیہ انٹرویو میں پاکستان کی تفریحی صنعت سے جڑے تلخ و شیریں تجربات اور اپنی ذاتی جدوجہد پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ عثمان کا انداز گفتگو نہ صرف نپا تُلا تھا بلکہ ایک ایسے نوجوان فنکار کا عکاس بھی تھا جو شہرت کی چکاچوند سے زیادہ فن کے وقار اور سچائی کو اہمیت دیتا ہے۔
ایک خواب جو آسان نہ تھا
2002 میں اسلام آباد میں پیدا ہونے والے عثمان ملک نے ابتدائی تعلیم کے بعد نیشنل کالج آف آرٹس (NCA) سے فنی تربیت حاصل کی۔ وہ 2017 میں NCA کے بہترین ماڈل قرار پائے، مگر ان کے بقول یہ سفر عزت، محنت اور انکار کے طویل سلسلے سے گزرا۔
“لوگوں کو لگتا ہے کہ ایک دن آپ کی تصویر وائرل ہوتی ہے اور اگلے دن آپ ہیرو بن جاتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس شعبے میں اپنا مقام بنانے کے لیے خود کو بار بار ثابت کرنا پڑتا ہے، اور اکثر خاموشی سے مسترد ہوتے رہنا ہی اصل تربیت بنتی ہے۔”
انڈسٹری کے اندرونی تضادات
عثمان ملک نے پاکستانی شوبز انڈسٹری کو خوبصورتی اور موقعوں کی دنیا قرار دیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کیا کہ یہاں میرٹ سے زیادہ تعلقات، ظاہری شخصیت، اور بعض اوقات اصولوں سے سمجھوتہ، فیصلے بدلنے کا سبب بن جاتے ہیں۔
“میرے لیے سب سے بڑی آزمائش یہ تھی کہ اپنی سچائی کے ساتھ کھڑا رہوں۔ میں نے خود کو کبھی کسی کے معیار پر نہیں ڈھالا۔ اور یہی بات بعض اوقات میرے خلاف گئی۔ لیکن آج میں اسی کی بدولت پہچانا جاتا ہوں۔”
اداکاری سے موسیقی تک: ایک ہمہ جہت فنکار
عثمان نہ صرف ایک کامیاب ماڈل اور اداکار ہیں بلکہ موسیقی کے میدان میں بھی اپنی پہچان بنا رہے ہیں۔ ان کے گانے “A Fake Friend” اور “Taare” نہ صرف نوجوانوں میں مقبول ہوئے بلکہ ایک خاص جذباتی سطح پر سامعین کو چھو گئے۔
“میرے گانے میرے دل کی آواز ہیں۔ جب الفاظ ساتھ نہیں دیتے، موسیقی سب کچھ کہہ جاتی ہے۔”
نوجوان فنکاروں کے لیے پیغام
عثمان نے شوبز میں آنے کے خواہشمند نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ شہرت کے پیچھے نہیں بلکہ فن کی سچائی کے پیچھے بھاگیں۔
“کامیابی وقتی ہو سکتی ہے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ آپ کو رات کو نیند آئے اس یقین کے ساتھ کہ آپ نے اپنی پہچان بیچے بغیر کچھ حاصل کیا ہے۔”
نظریہ، مستقبل اور امید
عثمان ملک کا فن، فیشن اور گفتگو کا انداز ایک نئے پاکستان کی علامت ہے—جہاں نوجوان اپنی پہچان خود تخلیق کرتے ہیں، اور معاشرتی سانچوں کو چیلنج کرتے ہیں۔ ان کی باتوں میں پختگی بھی تھی اور عزم بھی۔
“شوبز میں ایک خاموش انقلاب آ رہا ہے۔ نئے فنکار صرف کردار نہیں، نظریات لے کر آ رہے ہیں۔ میں بھی انہی میں سے ایک ہوں۔”
محمد عثمان ملک آج اس نسل کی آواز ہیں جو خواب دیکھنے سے ڈرتی نہیں، اور حقیقت کا سامنا کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتی۔ ان کی جدوجہد، صرف ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ اس پاکستان کی تصویر ہے جہاں فن، سچائی، اور استقامت نئی روایتیں رقم کر رہے ہیں.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: محمد عثمان ملک پاکستان کی سے زیادہ رہے ہیں کہ ایک کے لیے
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔